رسائی کے لنکس

چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے: ہلری


ہلری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی قبول کرتے ہوئے امریکی قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جمعرات کو دیر گئے پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں اپنی جماعت کے قومی کنونشن کے اختتام پر خطاب میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ "یہ ہم پر منحصر ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم مل کر کام کریں گے تاکہ ہم دوبارہ اکٹھے آگے بڑھ سکیں۔"

68 سالہ ہلری کلنٹن کسی بھی بڑی جماعت کی طرف سے منصب صدارت کے لیے نامزدگی حاصل کرنے والی پہلی امریکی خاتون ہیں۔

انھوں نے اپنے ورمونٹ سے سینیٹر برنی سینڈرز کو پرائمری اور کاکس کے ہونے والے انتخاب میں شکست دے کر یہ نامزدگی حاصل کی۔

سینڈرز بھی اس کنونشن میں اپنی تقریر کے دوران ان کی حمایت کر چکے ہیں لیکن ان کے بعض حامی گروپوں نے ہلری کلنٹن کی حمایت نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جو کہ خاتون امیدوار کے لیے نومبر میں ہونے والے انتخاب میں ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔

ہلری کلنٹن نے جمعرات کو اپنی تقریر میں سینڈر کی طرف سے ان کی حمایت کو سراہتے ہوئے نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے، اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف پر آواز بلند کرنے کو اجاگر کیا۔

انھوں نے کہا کہ "میں آپ کو بتایا چاہتی ہوں کہ میں نے آپ کو سنا ہے، آپ کا مقصد ہمارا مقصد ہے۔"

نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ہو گا۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ان کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

انھوں نے اچھی تنخواہوں کے ساتھ ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت تک اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتا جب تک متوسط طبقہ ترقی نہ کرے۔

کلنٹن نے مزید کہا کہ وہ لوگوں سے اسلحہ واپس لینے میں دلچسپی نہیں رکھتیں لیکن وہ چاہتی ہیں کہ ایسی اصلاحات کی جائیں کہ جس سے ان لوگوں کی گولیوں سے ہونے والی اموات کو روکا جائے جن کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔

"ہمیں اپنے ملک میں تفریق ختم کرنا ہے، صرف اسلحہ کے معاملے پر ہی نہیں، نسل (پرستی)، امیگریشن اور ایسے ہی دیگر معاملات پر۔۔۔اور یہ سننے سے شروع ہوتا ہے ایک دوسرے کو سننے سے، خود کو ایک دوسرے کی جگہ پر رکھ کر دیکھنے سے (ہوتا ہے)۔"

ہلری کلنٹن نے جمعرات کو اپنے حریف ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہہ کر نشانہ بنایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی اپنے مستقبل اور ایک دوسرے سے خوفزدہ ہوں۔ انھوں نے ٹرمپ کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے مجوزہ منصوبے اور امریکہ میں مسلمانؤں کے داخلے پر پابندی جیسی تجاویز پر بھی تنقید کی۔

"ہم دیوار نہیں بنائیں گے، اس کی بجائے ہم ایک ایسی معیشت بنائیں گے جس میں ہر کوئی جو اچھی ملازمت چاہتا ہے اسے نوکری ملے۔ اور ہم ان لاکھوں تارکین وطن کے لیے شہریت کا ایک راستہ بنائیں گے جو پہلے ہی ہماری معیشت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم مذہب پر پابندی نہیں لگائیں گے، ہم تمام امریکیوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کو شکست دیں گے۔"

انھوں نے ٹرمپ کی مہم میں بیانات کو "متعصب اور تباہ کن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا رویہ منصب صدارت کے لیے اہل نہیں۔

ہلری کلنٹن کی تقریر کے بعد ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ہلری کلنٹن سے زیادہ کوتاہ نظر کوئی نہیں۔۔جہاں جہاں وہ جاتی ہیں بدعنوانی اور تباہی ان کے پیچھے ہوتی ہے۔"

فلاڈیلفیا میں ہونے والے کنونشن سے صدر اوباما نے بھی بدھ کو خطاب کیا تھا اور اپنی سابقہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کو آئندہ صدر کے لیے سب سے اہل امیدوار قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG