رسائی کے لنکس

کراچی میں ہندو برادری کے تہوار ’شیوراتری‘ کا اہتمام


مندر میں پوجاریوں یا عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ صبح ہی شروع ہوگیا تھا، حتیٰ کہ شام تک لوگ دیدار کی غرض سے لائنوں میں کھڑے رہے۔ اس دوران، مندر ’اوم نموشیوائے‘ ۔۔جے شیو شنکر۔۔ اور بھولے ناتھ کی جئے ۔۔جیسے بلند نعروں اور مندر بڑی سی گھنٹی کی آوازوں سے گھونجتا رہا

کراچی کے تقریباً تمام مندر منگل کو دن بھر عقیدت مندوں اور پوجا کے لئے آنے والے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے رہے۔ سب سے زیادہ بڑا اجتماع سی ویو کے رتن یشور مہادیو مندر میں رہا، جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین ہزارسے زائد افراد نے دیوی اور دیوتاوٴں خاص کر'شیو' اور 'پاروتی' کے دیدار کئے۔

پوجا کے لئے خاص طور سے وہاں موجود پنڈت مہاراج پرس رام اوجھا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ّآج رات بھر یہی سلسلہ جاری رہے گا۔۔۔کیوں کہ آج 'شیوراتری' ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے 'راتری' یعنی آج ’رات‘ بھر مندر میں ’شیو جی کی‘ پوجا کا اہتمام جاری رہے گا۔ بھجن گائے جائیں گے، پاٹھ پڑھا جائے گا، شیوجی کا نام جاپا جاتا رہے گا۔'

مندر میں پوجاریوں یا عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ صبح ہی شروع ہوگیا تھا، حتیٰ کہ شام تک لوگ دیدار کی غرض سے لائنوں میں کھڑے رہے ۔ اس دوران مندر ’اوم نموشیوائے‘ ۔۔جے شیو شنکر۔۔اور بھولے ناتھ کی جئے ۔۔جیسے بلند نعروں اور مندر میں لڑکے بڑی سی گھنٹی کی آوازوں سے گھونجتا رہا۔

خوشبو کی غرض سے مندر میں جگہ جگہ اگر بتیاں روشن تھیں۔ عقیدت مندوں میں سب سے زیادہ خواتین شریک تھیں۔ ایک خاتون جانکی دیوی نے بتایا کہ وہ بدین کے پاس ایک گاوٴں ہے وہاں سے خاص شیوراتری منانے آئی ہیں۔ ان کے ساتھ انہی کے خاندان اور آس پڑوس کی بیس بائیس خواتین اور بھی کراچی آئی ہیں۔

مہاراج پرس رام اوجھا نے بتایا کہ 'شیوراتری کے لفظی معنی لارڈ شیو کی مہارات (بڑی رات) ہے۔ ہندو کلینڈر کے مطابق یہ تہوار 'ماگھ' کے مہینے کی تیرہوں اور چودویں تاریخ کی درمیانی شب منایا جاتا ہے۔ عیسوی کلینڈر کے حساب سے یہ مہینہ ہر سال فروری اور مارچ کی درمیانی مدت میں آتا ہے۔ اس رات چاند نظر نہیں آتا اور اسے 'کرشنا پکشا' کہا جاتا ہے۔'

ہندو عقائد کے مطابق اس دن برت رکھا جاتا ہے اور شام کے وقت دودھ، پانی اور بل پترا یعنی بیل کے درخت کی پتیاں شیولنک پر چڑھائی جاتی ہیں۔ شیولنک لارڈ شیوا کی مقدس نشانی ہے جو عموماً سیاہ رنگ کے پتھر سے مشابہہ ہے۔

شیوراتری کے دن ہندو برادری کے تمام افراد مندر جاتے اور شیوجی کی پوجا کرتے ہیں۔ خواتین موقع کی مناسبت سے مختلف رنگوں سے بنیں بنارسی ساڑھیاں پہنتی ہیں، ماتھے پر تلک لگاتی ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں پوجا کی تھالیاں ہوتی ہیں جن میں دودھ ، بل کی پتیاں، پھل، پانی، اگربتی، دیا اور پرشاد ہوتا ہے۔

عقائد کے مطابق کائنات کو تین دیوتاوٴں بھرما، وشنو اور شیوا نے سنبھالا ہوا ہے۔ بھرما کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کائنات تخلیق کی، وشنو کائنات کی حفاظت کرتے ہیں جبکہ شیوا اس کائنات کے محافظ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے خاتمے کا بھی سبب بنیں گے۔

دلچسپ اسباب
شیوراتری منانے کے اسباب خاصے دلچسپ بیان کئے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس رات شیوجی دیوتا کے بجائے عام روپ میں نمودار ہوئے تھے اس لئے عقیدت مند ساری رات جاگ کر شیوجی کی عبادت کرتے ہیں۔ شیو جی کے بھارت میں رہنے والے انگنت عقیدت مند مختلف مقدس مقامات پراس دن خاص طور سے اسننان (دریا کے پانی سے غسل) بھی کرتے ہیں، جبکہ اکثر لوگ اپنے جسم پر اس روز مخصوص قسم اور رنگ کی مٹی بھی مل لیتے ہیں جو شیوشنکر کے نام سے منسوب کی جاتی ہے۔

پنڈت مہاراج پر س رام اوجھا

پنڈت مہاراج پر س رام اوجھا

ساری رات اوم نموشیوائے کا جاپ (ورد) بھی کیا جاتا ہے۔ شیوراتری کے حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس دن شیوا اور دیوی پاروتی کی شادی ہوئی تھی اور یہ دونوں کائنات کی بڑی قوتیں تصور کی جاتی ہیں۔ لہذا، ان کے ملاپ کی خوشی میں بھی شیوراتری کا تہوار منایا جاتا ہے۔

اس رات ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں اچھے جیون ساتھی ملنے کی کامنا (خواہش) کے لئے بھی پوجا کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG