رسائی کے لنکس

آئی اے ای اے  کے سربراہ، جوہری ٹیکنالوجی پر ایران کی پہلی انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران میں


ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان 6 مئی 2024 کو تہران، ایران میں اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے سربراہ رافیل گروسی سے ملاقات کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان 6 مئی 2024 کو تہران، ایران میں اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے سربراہ رافیل گروسی سے ملاقات کر رہے ہیں۔
  • آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی جوہری مذاکرات اور ایک جوہری کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران میں ہیں۔
  • گروسی،توقع ہے کہ جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی پر ایران کی پہلی انٹرنیشنل کانفرنس میں بھی تقریر کریں گے۔
  • گروسی نے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلمی سے ملاقات کی ہے۔
  • ہماری جوہری صلاحیت دنیا کا 3 فیصد ہے اور ’آئی اے ای اے‘ کے معائنے 22 فیصد ہیں:محمد اسلمی

اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی پیر کو ایران پہنچے ہیں، جہاں توقع ہے کہ وہ پیر کو شروع ہونے والی جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی پر ایران کی پہلی انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کے علاوہ، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے حکام سے ملاقات کریں گے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب علاقائی کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جوہری توانائی کا بین الاقوامی ادارہ (IAEA) ایران کی جانب سے معائنے اور دوسرے اہم مسائل پر تعاون کے فقدان پر تنقید کرتا رہا ہے۔

خبر رساں ادارو ں نے رپورٹ دی ہے کہ گروسی جوہری کانفرنس میں شرکت اور ملک کے اعلیٰ جوہری اور سیاسی عہدہ داروں کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک وفد کی سربراہی میں پیر کی دوپہر تہران پہنچے ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی۔

پروگرام کے مطابق اس دورے میں وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلمی سے ملاقاتیں شامل ہیں۔

گروسی ،توقع ہے کہ پیر کو شروع ہونے والی جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی پر ایران کی پہلی انٹر نیشنل کانفرنس میں بھی تقریر کریں گے۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں اسلمی نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ "اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں میں سب سے آگے " ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ا ایجنسی ایک آزاد بین الاقوامی ادارے کے طور پر کسی بھی سیاسی دباؤ سے آزاد رہ کر اپنا کردار ادا کر سکے گی۔"

یہ تین روزہ تقریب صوبہ اصفہان میں منعقد کی گئی ہے، جہاں یورینیم افزودگی کا نطنز پلانٹ واقع ہے اور جہاں گزشتہ ماہ اسرائیل سے منسوب کیے گئے حملے ہوئے تھے.

یورینیم کا ذخیرہ

تہران کا کہنا ہےکہ اس کی جوہری سرگرمیاں مکمل طور سے پر امن مقاصد کے لیے ہیں، وہ اس الزام سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔

فروری میں، آئی اے ای اے نے ایک خفیہ رپورٹ میں، جسے ایے ایف پی نے دیکھا تھا، کہا تھا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کا تخمینہ 2015 کے معاہدے میں طے شدہ حد سے 27 گنا تک پہنچ گیا ہے

اتوار کے روز ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے کہا کہ گروسی کے دورے سے "دونوں فریقوں کو اپنے تحفظات شئیر کرنےکا موقع ملا ہے،" خاص طور پر آئی اے ای کے انسپکٹروں کے حوالے سے۔

ایران نے ستمبر میں متعدد انسپکٹروں کے معائنے کی منظوری منسوخ کر دی تھی،جسے اس وقت اقوام متحدہ کی ایجنسی نے ایک "انتہائی اور بلاجواز" اقدام قرار دیا تھا۔

تہران نے کہا تھا کہ اس کا یہ فیصلہ امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی طرف سے "سیاسی زیادتی" کا نتیجہ ہے۔

اسلمی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران میں آئی اے ای اے کے "130 سے زیادہ انسپکٹر" کام کر رہے ہیں۔

پیر کے روز، انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا کے کسی بھی حصے کے مقابلے میں ایران میں زیادہ معائنے کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جوہری صلاحیت دنیا کا 3 فیصد ہے اور (آئی اے ای اے) کے معائنے 22 فیصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے اس سطح کے معائنے پوری تاریخ میں دنیا کے کسی ملک میں نہیں کیے گئے ہیں۔

مانیٹرنگ کے آلات

آئی اے ای اے اور ایرانی حکام نے اصفہان پر مبینہ حملے کے بعد ان سے جوہری تنصیبات کو "کوئی نقصان" نہ پہنچنے کی رپورٹ دی تھی

اس حملے کو اس سے چند روز قبل ایران کی جانب سے اپنے دشمن اسرائیل پر اولین براہِ راست حملے کے رد عمل کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ وہ براہ راست حملہ خود دمشق میں تہران کے قونصل خانے پر کیے گئے ایک مہلک حملے کا بدلہ تھا۔

بدھ کے روز اسلمی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان مذاکرات سے شکوک و شبہات دور کرنے میں مزید مدد ملے گی اور ہم ادارے کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر سکیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق، ایران حالیہ برسوں میں اپنی جوہری تنصیبات پر آئی اے ای اے کے نگرانی کے آلات کو غیر فعال اور معائنہ کاروں کو روک چکا ہے۔

گروسی نے ایران کا آخری بار دورہ مارچ 2023 میں کیا تھا اور صدر ابراہیم رئیسی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔

جوہری توانائی کا تاریخی معاہدہ

ایران نے بڑی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے ایک تاریخی معاہدے کے تحت طے شدہ جوہری سرگرمیوں پر پابندیوں کی تعمیل 2018 میں اس کے بعد معطل کر دی تھی جب امریکہ یک طرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار ہو گیا اور اس نے ایران پر دوبارہ بڑی پابندیاں عائد کر دیں۔

معاہدہ ٹوٹنے کے بعد سے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان کشیدگی میں بار ہا اضافہ ہوا ہے اور یورپی یونین کی ثالثی میں واشنگٹن کو پھر سے معاہدے میں شامل ہونے اور تہران کو پھر سے معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

گزشتہ سال، ایران نے اپنی یورینیم کی افزودگی کی رفتار سست کر دی تھی، جسے امریکہ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے آغاز کے موقع پر جذبہ خیر سگالی کا اظہار سمجھا گیا تھا۔

لیکن ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے جوہری امور سے متعلق ادارے نے کہا کہ ایران نے 2023 کے آخر میں 60 فیصد افزودہ یورینیم کی پروڈکشن کو تیز کیا تھا۔

فوجی استعمال کے لیے لگ بھگ 90 فیصد افزودہ یورینیم درکار ہوتی ہے۔

اس رپورٹ کا مواد اے ایف پی سے لیا گیا ہے ۔

فورم

XS
SM
MD
LG