رسائی کے لنکس

آئی او اے: رکنیت معطلی کے باوجود متنازع عہدیدار کا انتخاب

  • انجنا پسریجا

انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے نومنتخب سیکریٹری للیت بھانوٹ جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں

انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے نومنتخب سیکریٹری للیت بھانوٹ جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں

بھارت کی اولمپک ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی احتجاج اور تحفظات کے باوجود للیت بھانوٹ کو اپنا نیا سربراہ منتخب کرلیا ہے جن پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔

بھارت کی اولمپک ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی احتجاج اور تحفظات کے باوجود ان صاحب کو اپنا نیا سربراہ منتخب کرلیا ہے جن پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔

واضح رہے کہ اس انتخاب کے معاملے پر ہی 'انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی' نے دو روز قبل 'انڈین اولمپک ایسوسی ایشن' کی رکنیت معطل کردی تھی۔ اس معطلی کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے بھارت میں کھیلوں کی نگران اس بااختیار تنظیم میں اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ نئی دہلی سے اینجنا پسریجا کی رپورٹ:

انٹرنیشل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے بھارت کی قومی اولمپک ایسوسی ایشن میں مبینہ طور پر کرپٹ عہدیداران کے مجوزہ انتخاب کے خلاف منگل کو بھارت کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل'آئی او سی' نے بھارتی حکام کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایسے لوگوں کو اولمپک ایسوسی ایشن کے انتخاب میں حصہ لینے سے روکے جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

لیکن معطلی اور 'آئی او سی' کے انتباہ کے باوجود انڈین اولمپک ایسوسی ایشن نے بدھ کو للیت بھانوٹ کو اپنا نیا سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا۔

یہ وہی صاحب ہیں جو بھارت کی میزبانی میں ہونے والے 2010ء کے کامن ویلتھ گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ تھے جس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور غبن کا انکشاف ہوا تھا۔

للیت بھانوٹ پر بھی ان گیمز میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے جن کے تحت وہ 11 ماہ کی جیل بھی کاٹ چکے ہیں اور ان دنوں ضمانت پر رہا ہیں۔

بھارتی حکام کا اصرار ہے کہ انہوں نے یہ انتخاب کراکے کچھ غلط نہیں کیا، کیوں کہ ان کے بقول ایک بھارتی عدالت نے ایسوسی ایشن کے انتخابات بھارتی حکومت کے 'اسپورٹس قوانین' کے تحت کرانے کا حکم دیا تھا جس کی تعمیل کی گئی ہے۔

لیکن 'انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی' پہلے ہی اس انتخاب کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ 'آئی او سی' کا کہنا ہے کہ بھارت کی 'اولمپک' رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ 'انڈین اولمپک ایسوسی ایشن' کے معاملات میں بھارتی حکومت کی مداخلت اور بدانتظامی کے باعث کیا گیا۔

ادھر 'آئی او سی' کے اس فیصلے پر بھارت میں خاصی ہا ہا کار مچی ہوئی ہے اور کئی حلقے 'انڈین اولمپک ایسوسی ایشن' اور کھیلوں کے منتظم دیگر اداروں میں اصلاحات اور ان کے معاملات میں شفافیت لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نئی دہلی کے ایک اسپورٹس کمنٹیٹر وی سری واٹسا کا کہنا ہے کہ طاقت ور سیاست دان اور افسران بھارت میں کھیلوں کی منتظم بیشتر تنظیموں کے کرتا دھرتا بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول ان افراد کو کھیلوں کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہیں اور ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد ہونا بھی ایک معمول کی بات ہے۔

بھارتی سیاست اور کھیلوں کا اصل المیہ یہ ہے کہ ان بااثر افراد کو کھیلوں سے متعلق معاملات پر کلی اختیارات حاصل ہیں جن کا استعمال مخصوص مفادات کے لیے کیا جاتا ہے۔ بھارت کے دیگر اداروں کی طرح اس ملک کی 'اسپورٹنگ باڈیز' میں بھی شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔

کئی حلقوں کا موقف ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں میں بھارت کی خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ 'اسپورٹس باڈیز' میں پائی جانے والی بد انتظامی ہے۔ لندن اولمپکس 2012ء میں بھارت نے کل ملا کر چھ تمغے اپنے نام کیے تھے جو 'اولمپکس' کی تاریخ میں بھارت کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے۔ جب کہ اس سے قبل بیجنگ اولمپکس میں بھارت کے حصے میں صرف ایک تمغہ آیا تھا۔

کھیلوں کے مبصرین بھارتی حکومت پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ اپنے ہاں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے مناسب اقدامات کرے اور اس ضمن میں چین کے ماڈل کو سامنے رکھے۔

لیکن اس بارے میں نئی دہلی کی اب تک کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی ہے۔ سنہ 2010ء میں بھارت نے 'کامن ویلتھ گیمز' کی میزبانی کی تھی جسے انعقاد سے قبل اس ابھرتی ہوئے معاشی طاقت کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا جارہا تھا۔

لیکن ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے اسپورٹس ایونٹ کی میزبانی کے نتیجے میں بھارت کو شاباشی کے بجائے الٹی شرمندگی اٹھانی پڑی۔ ایونٹ کا بجٹ 75 ملین ڈالر سے بڑھ کر آٹھ ارب ڈالر تک جاپہنچا اور اس میں بڑے پیمانے پر غبن اور بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ یہاں تک کہ سہولیات کی عدم دستیابی اور ناقص انتظامات کے باعث کئی ممالک نے ان مقابلوں کے بائیکاٹ کی دھمکی تک دے ڈالی۔

اب 'اولمپک' رکنیت کی معطلی کے نتیجے میں بھارت کے اسپورٹس حکام کو ایک اور سبکی اٹھانی پڑ رہی ہے۔

'آئی او سی' کی جانب سے عائد پابندی کے تحت بھارتی ایتھلیٹس اپنے ملک کے پرچم تلے 'اولمپک' مقابلوں میں شریک نہیں ہوسکیں گے جب کہ بھارت کی قومی اولمپک ایسوسی ایشن 'آئی او سی' کی فنڈنگ سے بھی محروم ہوگئی ہے۔

لیکن 'انڈین اولمپک ایسوسی ایشن' کے عہدیداران اس پابندی کو زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ جلد اپنی رکنیت بحال کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
XS
SM
MD
LG