رسائی کے لنکس

بھارتی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ


بھارتی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ

بھارتی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے اس معاملے پر روز انہ احتجاج اور تحقیقات کے مطالبات کی وجہ گزشتہ سال پارلیمان کے آخری اجلاسوں کی کارروائیاں بھی بری طر ح متاثر ہوئیں۔ ٹیلی کام لائسنسوں کی فروخت سے ملک کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ چالیس ارب ڈالربتایا گیا ہے۔

ہزاروں افراد نے افراط ِزر کے خلاف بدھ کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک کی اکثریتی غریب آبادی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

زیادہ تر مظاہرین نوکری پیشہ افراد تھے جنھوں نے کمیونسٹ جھنڈے اٹھا رکھے تھے اوروہ افراطِ زر اور بدعنوانی کے خلاف نعرے لگا تے ہوئے دارالحکومت کے مرکز میں جمع ہوئے اور اُس طرف جانے والی سڑکوں کو ٹریفک کی آمدو رفت کے لیے بند کیا گیا تھا۔

پیر کو بھارت میں نئے بجٹ کی تفصیلات کا اعلان متوقع ہے اور افراطِ زر کے معاملے پر حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دوسری یونینوں کاساتھ دیتے ہوئے سینٹر آف انڈیا ٹریڈ یونینز (سی آئی ٹی یو) نے اس احتجاجی جلوس کا اہتمام کیا ۔

سی آئی ٹی یو نے ایک بیا ن میں کہا ہے کہ ملک کی 19 ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدور، جن میں ہزاروں خواتین بھی شامل ہیں، دہلی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جو پارلیمان کی طرف مارچ کرتے ہوئے بھارت کی معیشت میں ہونے والی ”مضبوط ترقی“ میں اپنا حصہ مانگیں گے۔

بیان کے مطابق توقع ہے کہ اس احتجاجی ریلی میں آٹھ سے دس لاکھ لوگ شرکت کریں گے ۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے افراطِ زر کو بھارت کی ترقی کے لیے ایک” سنگین “خطرہ قرار دیا ہے، اور خوردنی اشیاء کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے حکومت سبزیوں اور دیگر اشیا کی سپلائی میں اضافے کی بھرپور کوششیں کررہی ہے۔

تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 11.05 فیصدسالانہ ہے جبکہ ایک وقت یہ شرح 20 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

بھارت میں بدعنوانی کے حالیہ سکینڈل بھی حکومت کے خلاف عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اکتوبر میں دولت مشترکہ کے ملکوں کے کھیلوں اور ٹیلی کام لائسنسوں کی فروخت میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے انکشافات کے بعد گزشتہ کئی ماہ سے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت تنقید کا ہد ف بنی ہوئی ہے۔

منگل کو بھارتی وزیر اعظم نے 2008ء میں لائسنسوں کی فروخت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اس سکینڈل کی پولیس تحقیقات کے نتیجے میں وزیر مواصلات اے راجہ کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے اس معاملے پر روز انہ احتجاج اور تحقیقات کے مطالبات کی وجہ گزشتہ سال پارلیمان کے آخری اجلاسوں کی کارروائیاں بھی بری طر ح متاثر ہوئیں۔ ٹیلی کام لائسنسوں کی فروخت سے ملک کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ چالیس ارب ڈالربتایا گیا ہے۔

توقع ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت آئندہ ہفتے پیر کو نئی سال کے بجٹ کی منظوری دے گی۔

XS
SM
MD
LG