رسائی کے لنکس

بانجھ پن کے علاج کی ماہر، ڈاکٹر زاہدہ بقائی

  • صفیہ کاظم

’بانجھ پن بیماری نہیں ایک مجبوری ہے، جس کی وجہ سے لوگ پریشان رہتے ہیں‘، اور ’رمضان پیکیج‘ کے نام سے ہر سال سستے علاج کا بندوبست کیا جاتا ہے، جس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں

پاکستان میں بانجھ پن کے علاج کے حوالے سے ڈاکٹر زاہدہ بقائی حکمت کے شعبے میں ایک بہت بڑا نام ہیں۔ اُنھوں نے 1991ء میں ’انسٹی ٹیوٹ آف ریپروڈکشن اینڈ ڈولپمنٹ سائنسز‘ کھولا، اور پاکستان میںIn Vitra Fertilizationطریقہٴ علاج کے شعبے کی بانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔

ایسے معاشرے میں جہاں غربت اور علم کی کمی ہو، اور بانجھ پن ایک عیب اور بانجھ عورت منحوس تصور کی جاتی ہو، اُنھوں نے اِس علاج کو عام کرنےکے لیےایک مثالی جدوجہد کی۔

ایک تازہ انٹرویو میں، اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈیٹا کے مطابق، مردوں میں تولیدی صلاحیت کا نقص 60فی صد، جب کہ خواتین میں یہ 40فی صد ہے۔ اس کے باوجود، اب تک لوگ عورتوں کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے آئے ہیں۔

اُن کے بقول، میں نے کلینک کھولا جس میں لازم تھا کہ خاوند اور بیوی ساتھ آئیں گے، جن کا ایک ساتھ ٹیسٹ لیا جائے گا، اور ساتھ ہی اُن کا علاج ہوگا۔ رفتہ رفتہ، دونوں ایک ساتھ آنا شروع ہوئے۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ شروع شروع میں عورتیں چھپ چھپ کر کلینک آتی تھیں، جس روایت کو ختم کرنا مقصود تھا۔

آج کی صورت حال بیان کرتے ہوئے، ڈاکٹر بقائی نے بتایا کہ اب ایک نئی چیز شروع ہوئی ہے کہ پہلے مرد اکیلے آتے ہیں اور یہ یقین کرنے کے بعد کہ اُن میں کوئی کمی نہیں، پھر بیوی کے ساتھ کلینک آتے ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اس علاج کے بعد کتنے فیصد لوگوں کو اس میں کامیابی حاصل ہوتی ہے، تو اُنھوں نے بتایا کہ دنیا میں بانجھ پن کے علاج کے چار بہترین کلینک ہیں۔ پہلا آسٹریلیا کا موناش، دوسرا نیشنل ہاسپٹل آف سنگاپور، تیسرا برطانیہ کا نوٹنگھم جب کہ ہمیں چوتھے درجے پر شمار کیا جاتا ہے۔ اُن کے بقول، اس علاج کی کامیابی کی شرح30 فیصد تک ہے، جو ہمارے ہاں بھی یکساں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسی عورت جو بچہ پیدا نہ کر سکے منحوس سمجھی جاتی ہے، لیکن جب روایتی طور پر ایک شوہر سے کہا جائے کہ آپ بھی اپنا ٹیسٹ کرائیں تو وہ بہت مشکل سے تیار ہوتے ہیں، ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ اگر بچہ پیدا نہیں ہو رہا تو اس میں بیوی کی خطا ہے۔

جب اُن سے سوال کیا گیا کہ بہت سے ممالک میں ’اسپرم بینک‘ ہوتے ہیں، تو کیا اُن کے کلینک میں بھی ایسی سہولت موجود ہے، تو اُنھوں نے بتایا کہ ایک مرد کے ’اسپرم‘ اُس کی بیوی کیلئے ہی فریز کئے جاتے ہیں۔ اُن کے الگ نمبر ہوتے ہیں۔ اِس کے علاوہ جنین کو بھی فریز کرتے ہیں۔ لیکن، ہمارے ہاں ’اسپرم بینک‘نہیں ہیں، جس کی وجہ ہمارا مذہب ہے۔

اُن کے الفاظ میں: ’میں اپنے طور پر کبھی مذہب سے تجاوز نہیں کرنا چاہوں گی۔ اس میں کسی دوسرے کا اسپرم یا بیضہ استعمال کرنا، یا کسی تیسری عورت کو بچہ پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنا۔ میں اپنی زندگی میں اس کلینک میں کسی کو یہ کرتے نہیں دیکھنا چاہوں گی۔ ہمارے ہاں صرف شادی شدہ مرد اور عورت کا اپنا بچہ پیدا کرنے میں مدد دی جاتی ہے‘۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اِس طریقہ علاج میں کتنا خرچ آتا ہے اور کیا عام لوگ اسے برداشت کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت مہنگا علاج ہے۔

’اِس کے ابتدائی ٹیسٹ، روزمرہ کی دیکھ بھال اور دوائیں مہنگی ہیں۔ اس کے علاج کیلئے ہر دوا باہر سے امپورٹ کی جاتی ہے۔ اگر دواؤں کے علاوہ اس کی پوری قیمت پچاس ہزار یا دس ہزار بھی کر دیں، پھر بھی یہ ایک مہنگا علاج ہے۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو سچ مچ اس کے حقدار ہیں وہ صرف پیسوں کی وجہ سے نہیں آسکتے‘۔

رمضان کے حوالے سے، اُن کا کہنا تھا کہ لوگ، خیرات، زکواة اور صدقات دینی فریضے کے طور پر غریبوں اور یتیموں میں کثیر رقوم بانٹتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جن حضرات کے ہاں بچہ نہیں ہوتا، اور ساتھ ہی غربت کے باعث وہ اس نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں، وہ اس کار خیر میں حصے کے حقدار ہوتے ہیں۔

اِس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، ڈاکٹر زاہدہ بقائی نے بتایا کہ اُنھوں نے رمضان شریف میں علاج کے سلسلے میں ’رمضان پیکیج‘ تشکیل دیا۔ اُن کے بقول، خدا نے میری سن لی اور پہلے ہی سال بیشمار لوگ اس طرف متوجہ ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ دراصل، بانجھ پن کوئی بیماری نہیں، ایک مجبوری ہے۔ مگر اس مجبوری کی وجہ سے لوگ کتنے دکھی ہوتے ہیں، اُن کی بپتا سنتے سنتے میرا کلینک کا آدھا وقت ختم ہو جایا کرتا تھا۔

رمضان پیکیج کی تفصیل بتاتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ماہ رمضان کے 30 دِن پر مشتمل ایک پیکیج کا اعلان کیا جاتا ہے۔ علاج میں جو کلینک کا خرچہ ہے وہ ہم نے کم سے کم رکھا ہے۔ وہ صرف 50000 روپے ہے۔ یہ کوئی قیمت نہیں مگر عام آدمی کیلئے یہ بہت زیادہ ہے۔ مگر ہم اسلئے خوش ہیں کہ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی جیب سے علاج کروا رہے ہیں، کسی سے خیرات نہیں لے رہے۔

ساتھ ہی اُنھوں نے بتایکا کہ دوا ہم اُن پر چھوڑ دیتے ہیں، جس سلسلے میں لوگ کبھی پیچھے نہیں ہٹتے، کیونکہ اُن کو معلوم ہے کہ یہ تو لینا ہی ہوگی۔

ڈاکٹر زاہدہ بقائی نے بتایا کہ، ’اِس طرح، اب رمضان میں ہمارے پاس بہت سے لوگ آنے لگے ہیں‘۔

’بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ریپروڈکشن اینڈ ڈولپمنٹ سائنسز‘: 111 بی، 1/8، ناظم آباد نمبر 3، کراچی۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG