رسائی کے لنکس

اقبال منزل سیالکوٹ ۔ شاید اب اس عمارت کی بھی سُنی جائے

  • افضل رحمٰن

اقبال منزل سیالکوٹ

اقبال منزل سیالکوٹ

اُنیس سو اکہتر میں قومی یادگار قرار دیےجانے کے بعد سے اقبال منزل کی دیکھ بھال کے لیے حکومت کی زیادہ تر برسوں میں سالانہ گرانٹ پندرہ سے بیس ہزار روپے رہی۔

سیالکوٹ میں واقع اقبال منزل، علامہ اقبال کی جائے پیدائش ضرور ہے مگر یہ مکان اُن کے بھائی شیخ عطا محمد کے حصہ میں آیا تھا جبکہ سیالکوٹ ہی میں علامہ اقبال کے والد کا ایک اور مکان تھا جو علامہ کے حصے میں آیا تھا۔

اُنیس سو اکہتر میں حکومت نے پاکستان کے قومی شاعر کی جائے پیدائش کو قومی یادگار قرار دے کر یہ مکان شیخ عطا محمد کی اولاد سے خریدا تھا مگر نو مرلے کے اس تین منزلہ مکان کی حالت بوسیدہ ہی رہی کیونکہ حکومت نے اقبال منزل کی دیکھ بھال کے لیے بہت کم رقم مختص کر رکھی تھی۔

محکمہ آثارِقدیمہ کے عہدیدار سلیم الحق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگر چہ اقبال منزل کی دیکھ بھال کے لیے کبھی حکومت نے ڈیڑھ لاکھ روپے اور کبھی اسّی ہزار روپے سالانہ بھی دیے مگر عمومی طور پر پندرہ بیس ہزار روپے سالانہ کی ہی گرانٹ ملتی تھی جس سے صرف اس عمارت میں رنگ وروغن کروا دیا جاتا تھا اور وہ بھی دیواروں پر ٹھہرتا نہیں تھا کیونکہ اُن کے بقول اس مکان کی بنیادوں سے پانی رِس رِس کردیواروں میں آچکا ہے۔

سلیم الحق نے کہا کہ اب حکومت نے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کی گرانٹ دی ہے جس میں سے ستر لاکھ اس برس استعمال کیے جائیں گے اور ستر لاکھ اگلے برس۔ اُنہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ اس گرانٹ سے اقبال منزل کی اصل شکل بحال ہوجائے گی۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے محکمہ نے بنیادی طور پر تین کروڑ چالیس لاکھ روپے کے بجٹ کا منصوبہ بنایا تھا جس میں دو کروڑ اس غرض سے رکھے گئے تھے کہ اقبال منزل کے اِردگرد موجود مکانات خرید کر مسمار کردئیے جائیں اور وہاں پارکنگ بنائی جائے اور چھوٹا سا باغ بھی لگایا جائے۔

سلیم الحق نے کہا کہ سیالکوٹ کے چیمبر آف کامرس سے متعلق بعض اہم شخصیات یہ دو کروڑ روپے فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اوراگر یہ رقم فراہم ہوجاتی ہے تو پھر سرکاری گرانٹ سے اقبال منزل کی درستیابی ہوگی اور اضافی دو کروڑ سے پارکنگ کی تعمیر کی جائے گی اور وہاں باغ بنایا جائےگا۔

اقبال منزل کی بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سلیم الحق نے کہا اس عمارت میں جہاں سیمنٹ لوہے کے سریے استعمال کیے گئے ہیں اُن کی جگہ اب پُرانا مٹیریل لگایاجائے گا یعنی سیمنٹ کی جگہ چونا استعمال کرکے اس عمارت کی پرانی شکل بحال کی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ لکڑی کا کام بھی ویسا ہی کروایاجائے گا جیسا بنیادی طور پر اس عمارت میں تھا۔

اقبال منزل کی تاریخ بتاتے ہوئے سلیم الحق نے کہا کہ علامہ اقبال کی جائے پیدائش تو یہ مکان ہی ہے مگراُنیس سو دس اور اُنیس سو پندرہ کے درمیان میں اس مکان کے مالک، علامہ اقبال کے بھائی شیخ عطا محمد نے اس کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کروایا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ نئی تعمیر چونکہ پرانی بنیادوں پرہوئی تھی لہذا جس کمرے میں علامہ اقبال کی پیدائش ہوئی، نئے گھر میں بھی وہ کمرہ اُسی جگہ تعمیر کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ مقام علامہ اقبال کی جائے پیدائش ضرور ہے مگر وہ کمرہ نئے سرے سے تعمیر ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سلیم الحق نے کہا کہ علامہ اقبال کی پیدائش کے وقت یہ گھر نو مرلے کا نہیں تھا بلکہ بہت چھوٹا تھا اورمحلہ چوڑی گراں میں اس کا دروازہ کھلتا تھا لیکن بعد میں جب اُن کے بھائی شیخ عطا محمد کے حصے میں آیا تو اُنہوں نے ساتھ والا مکان خرید کر اس میں شامل کیا اور پھر سامنے جو دوکانیں تھیں اور اُن کے ساتھ ایک گھر تھا اُن کو بھی خریدا اور یوں کُل رقبہ نو مرلے ہوگیا۔

سلیم الحق نے کہا کہ اس کے بعد شیخ عطامحمد نے اس مکان کی تعمیرِنو کی جو آج اقبال منزل کہلاتا ہے۔ یہاں موجود نوادرات کے بارے میں اُنہوں نے بتایا کہ کچھ نادر تصاویر ہیں، پرانے خاندانی پلنگ ہیں، نماز کی چوکی ہے اور پرانی طرز کی کرسیاں میز اور صندوق وغیرہ ہیں۔

ان کے علاوہ اس عمارت میں یہاں عام لوگوں کے لیے ایک مختصر سی لائبریر ی بھی قائم ہے جس میں علامہ اقبال کی کتابوں کے علاوہ اُن پر لکھی جانے والی بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ سلیم الحق نے بتایا کہ وہاں ایک لائبریرین بھی محکمے کی طرف سے تعینات ہے۔

XS
SM
MD
LG