رسائی کے لنکس

پاکستان کو موخر ادائیگیوں کے بدلے ایرانی تیل کی پیشکش


ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے فروری کے وسط میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے فروری کے وسط میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔

ایران نے موخر ادائیگیوں کے بدلے پاکستان کو یومیہ 80 ہزار بیرل تیل بیچنے کی پیشکش کی ہے، جس کا مقصد تہران پر مغربی تعزیرات کے اثرات کو کم کرنے کے علاوہ اسلام آباد کو درپیش توانائی کے بحران میں کمی ہو سکتا ہے۔

پاکستانی وزارت پیٹرولیم کے ایک ترجمان نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی پیشکش ہے۔

’’اس کے طریقہ کار یا پھر اس پر عمل درآمد کے بارے میں ہمارے پاس فوری طور پر کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ہماری وزارت کا ایک وفد مارچ کے وسط میں ایران کا دورہ کرکے اس پیشکش سے متعلق مزید معلومات حاصل کرے گا۔‘‘

ایران کی طرف سے تیل کی پیشکش ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں پاکستانی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ تہران نے اشیاء کے بدلے اسلام آباد سے گندم درآمد کرنے کا کہا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ کی طرف سے نئی تعزیرات کے بعد ایران میں خوراک کی اشیاء کی درآمدات میں خلل پڑا ہے۔ گندم کے بدلے پاکستان کھاد اور خام لوہا ایران سے درآمد کرنا چاہتا ہے۔

ایران پر نئی پابندیوں کا مقصد اُسے جوہری پروگرام کو ترقی دینے سے باز رکھنا ہے اور 31 دسمبر کو لگائی گئی تعزیرات کا ہدف ایسے ادارے ہیں جو ایران کے مرکزی بینک یا پھر ملک کے کالعدم قرار دیے گئے دیگر مالیاتی اداروں سے لین دین کرتے ہیں۔

جن ممالک میں ایرانی تیل کی نمایاں درآمد کی جاتی ہے وہ بھی تعزیرات کے بعد رضاکارانہ طورپر ایسی خریداریاں کم کر رہے ہیں تاکہ سزا سے بچ سکیں۔

XS
SM
MD
LG