رسائی کے لنکس

ایران کے خلاف نئی پابندیوں پر چین کی تنقید


ایران کے خلاف نئی پابندیوں پر چین کی تنقید

ایران کے خلاف نئی پابندیوں پر چین کی تنقید

بدھ کو بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لی ویمن نے کہا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوجائے گی اور خطے میں امن اور استحکام کے امکانات معدوم ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر فریقین کو ایران کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا جس کے لیے گفتگو اور تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل روس بھی مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر عائد کردہ نئی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔ منگل کو ماسکو نے ان پابندیوں کو "ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم" قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ نے پیر کو ایران کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں کو سخت کرنے کا اعلان کیا تھا جن کا سبب ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مغربی دنیا میں موجود خدشات بنے ہیں۔

مغربی ممالک کا موقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن تہران حکومت ان خدشات کی تردید کرتی آئی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رمین مہمن پرست نے منگل کو ایران پر عائد کردہ نئی پابندیوں کو "پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ" کا ایک حربہ قرار دے دیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نئی پابندیاں غیر موثر ثابت ہوں گی کیوں کہ ایران کی برطانیہ اور امریکہ کےساتھ براہِ راست تجارت پہلے ہی بہت محدود سطح پر کی جارہی ہے۔

مغربی ممالک نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی 'آئی اے ای اے' کی جانب سے رواں ماہ جاری کردہ اس رپورٹ کے بعد عائد کی ہیں جس میں "قابلِ اعتماد" شہادتوں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تہران نے عالمی ادارے کی رپورٹ کو قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG