رسائی کے لنکس

عراق میں پولیس اور فوج پر حملوں میں کم سے کم 100 ہلاک، 300 سے زائد زخمی


عراق میں پولیس اور فوج پر حملوں میں کم سے کم 100 ہلاک، 300 سے زائد زخمی

عراق میں پولیس اور فوج پر حملوں میں کم سے کم 100 ہلاک، 300 سے زائد زخمی

حکام کا کہنا ہے کہ عراقی دارالحکومت بغداد میں مسلح افراد نے پیر کوپولیس اور فوج پر یکےِ بعد دیگرے حملے کرکے کم از کم 67 افراد کو ہلاک اور 135 کو زخمی کر دیا ہے۔

یہ مہلک ترین حملہ بغداد سے 95 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کے باہر بم دھماکوں میں کم سے کم 36 افراد ہلاک اور 135 زخمی ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دوکار بم حملوں کے بعد جب امدادی کارکن حملے کا شکار ہونے والوں کوجمع کر کے ان کی دیکھ بھال کرنے والے تھے، ایک خودکش بمبار نے فیکٹری کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

پیر کو بغداس سے 50 کلومیٹر دور سویرا نامی شہر میں دوہری بمباری میں 13 لوگ ہلاک اور 70 زخمی ہوئے۔

دارالحکومت میں مسلح افراد نے سات عراقی فوجیوں اور پولیس اہکاروں کو چھ چوکیوں پر حملے کر کے ہلاک کر دیا۔

بیشتر واقعات میں کاروں میں سوار حملہ آوروں نے سائلنسر لگا ہوا اسلحہ استعمال کیا ۔

بغداد کے پانچ علاقوں میں کیے جانے والے اِن حملوں کا آغاز مقامی وقت کے مطابق تین بجے ہوا اور یہ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہے۔

ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی شامل ہیں جو پولیس کی ایک گشتی پارٹی کو نشانہ بنانے کے لیے سڑک کنارے نصب کردہ ایک بم کی زد میں آ گئے۔

مبصرین کی رائے میں عسکریت پسند وں کی جانب سے سائلنسر لگے اسلحے کے استعمال کا مقصد نشانہ بنائے جانے والے سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان گھبراہٹ اور افراتفری پیدا کرنا ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں عراق میں جاری پر تشدد کارروائیوں میں کمی ہوئی ہے لیکن اب بھی پولیس اور فوج پر القائدہ سے جڑی سْنی شدت پسند تنظیموں کے حملے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ اِن حملوں میں اْس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب مارچ میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد شیعہ سیاستدانوں نے سْنیوں کے حمایت یافتہ سابق عراقی وزیرِ اعظم اِیاد اَلاوی کو حکومت تشکیل دینے سے روکنے کے لیے ایک سیاسی اتحاد بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا۔

سابق وزیرِ اعظم اِیاد اَلاوی جس سیاسی اتحاد کے سربراہ ہیں اْس کو صرف دو سیٹوں کی برتری حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG