رسائی کے لنکس

عراق: پارلیمانی انتخابات میں موجودہ اور سابق وزیر اعظم کے اتحادیوں کے درمیان سخت مقابلہ


عراق: پارلیمانی انتخابات میں موجودہ اور سابق وزیر اعظم کے اتحادیوں کے درمیان سخت مقابلہ

عراق: پارلیمانی انتخابات میں موجودہ اور سابق وزیر اعظم کے اتحادیوں کے درمیان سخت مقابلہ

عراق کے پارلیمانی انتخابات کے جزوی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر عظم نوری المالکی کے اتحاد کواس دھڑے سے سخت مقابلے کا سامنا ہے جس کی قیادت سابق وزیر اعظم ایاض علاوی کررہے ہیں ۔

جزوی نتائج کے مطابق مسٹر مالکی کی قیادت کے شیعہ اتحاد کو جنوبی شیعہ اکثریتی صوبوں میں ،جب کہ مسٹر علاوی کے سیکولرعراقیہ دھڑے کو بغداد کے شمال میں واقع دوصوبوں میں برتری حاصل ہے۔

شمالی صوبے اربیل میں، جو خود مختار کرد علاقے کا حصہ ہے، کردش الائنس ووٹوں میں آگے ہے۔

ابھی تک 18 صوبوں میں سے صرف پانچ صوبوں کے ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں۔جب کہ ووٹوں کے اکثریتی علاقے بغداد میں گنتی کے نتائج کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا۔

عراقیہ اتحاد اور شیعہ عراقی نیشنل الائنس (آئی این اے) ، دونوں نے جمعرات کے روز ایک دوسرے پر مبینہ طورپر جعل سازی کے متعدد الزامات لگائے اور ووٹوں کی گنتی کے عمل میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔

عراقیہ اتحاد نے یہ دعویٰ کیا کہ بعض واقعات میں ووٹ کوڑے کے ڈبوں میں پائے گئے تھے۔ پارٹی کا کہنا تھاکہ نتائج وزیر اعظم نوری المالکی کے حق میں کرنے کے لیے مبینہ طورپر دھاندلی کی گئی ۔

برطانوی قانون ساز اور یورپین پارلیمنٹ کے رکن سٹرین سٹوین سن نے بھی ووٹنگ میں جعل سازی کی بات کی ہے۔

XS
SM
MD
LG