رسائی کے لنکس

الصدر نے متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ "بصورت دیگر شام کھنڈرات میں تبدیل ہو جائے گا اور اس کا فائدہ صرف قابضین اور دہشت گردوں کو ہو گا۔"

عراق کے ایک اہم شیعہ راہنما مقتدیٰ الصدر نے شام کے صدر بشارالاسد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں تاکہ شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ "یہ بشارالاسد کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ ملک کو جنگ اور دہشت گردوں کے غلبے سے بچانے میں مدد کے لیے اقتدار چھوڑ دیں۔"

الصدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی شام کے ایک قصبے پر ہونے والے کیمیائی حملے کے ردعمل میں امریکہ نے ایک شامی فضائی اڈے پر کروز میزائل داغے تھے۔

الصدر متعدد مواقع پر شام میں عراقی ملیشیا کی موجود کی مخالفت بھی کر چکے ہیں اور اپنے تازہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں لڑائی میں شریک تمام فریقین اپنی فورسز کو شام سے نکال لیں۔

"میں تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی فورسز شام سے نکال لیں تاکہ شام کے عوام کو اپنے معاملات پر اختیار حاصل ہو سکے کیونکہ ان ہی کا حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔"

الصدر نے متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ "بصورت دیگر شام کھنڈرات میں تبدیل ہو جائے گا اور اس کا فائدہ صرف قابضین اور دہشت گردوں کو ہو گا۔"

مقتدیٰ الصدر عراق کے دیگر سیاسی راہنماوں کی طرح اپنی ایک ملیشیا رکھتے ہیں جو "امن بریگیڈ" کہلاتی ہے۔

عربی زبان میں دیے گئے اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بشار الاسد اقتدار ملک کے مقبول گروپوں کے سپرد کر دیں جو دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔

الصدر کے ایران سے قربی تعلقات رہے ہیں جو کہ انھیں عراق میں امریکی اثرورسوخ کے فروغ کو روکنے کے لیے حمایت فراہم کرتا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف ایران اسد اور ان کی حکومت کا حمایتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG