رسائی کے لنکس

عراق: داعش کا فوجی اڈے پر حملہ، 12 اہلکار ہلاک


فائل

فائل

حملہ سنی اکثریتی شہر تکریت کے نواح میں قائم 'کیمپ اسپیچر' پر کیا گیا جو ماضی میں عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کےاستعمال میں رہ چکا ہے۔

عراق کے ایک فوجی اڈے پر شدت پسند تنظیم داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجووں کے حملے میں کم از کم 12 اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق حملہ سنی اکثریتی شہر تکریت کے نواح میں قائم 'کیمپ اسپیچر' پر کیا گیا جو ماضی میں عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کےاستعمال میں رہ چکا ہے۔

عراق حکام نے بتایا ہے کہ دو خود کش حملہ آوروں نے اتوار کو بارود سے بھری اپنی گاڑی فوجی اڈے کے مغربی دروازے سے ٹکرادی۔

دھماکے کے بعد مزید تین حملہ آوروں نے فوجی مرکز کے اس حصے میں داخل ہونے کےبعد خود کو دھماکے سے اڑالیا جہاں عراقی پولیس کے اہلکاروں کو تربیت دی جارہی تھی۔

حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے۔ تنظیم نے انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے حملے کا نشانہ عراق کی "شیعہ فوج" کو تربیت دینے والے اہلکار تھے۔

عراق پر امریکی حملے اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عراق میں شیعہ سنی تفریق اور کشیدگی انتہائی اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب کے مسلح گروہ اور ملیشیائیں ایک دوسرے پر حملے کرتی رہی ہیں۔

لیکن سنی شدت پسند تنظیم داعش کے عراق اور شام میں عروج کےبعد سے اس تشدد میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور شدت پسند تنظیم کے جنگجو اکثر و بیشتر اپنے زیرِ اثر علاقوں میں شیعہ اور اقلیتی گروہوں کو بطور خاص حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG