رسائی کے لنکس

یورپ میں داعش کی موجودگی پر تشویش کا اظہار


برسلز میں پولیس اہلکار چوکس ہیں

برسلز میں پولیس اہلکار چوکس ہیں

مغربی حکام کا اندازہ ہے کہ یورپ میں تین ہزار سے زائد ایسے لوگ ہیں جو کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر ملوث ہیں

امریکی اور یورپی انٹیلی جنس حکام نے یہ تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ داعش کی طرف سے برسلز میں ہونے والے ہلاکت خیز حملے مغربی سر زمین پر ہونے والی آخری کارروائی نہیں ہو گی۔

حکام ایک عرصے سے ان تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ داعش یورپ کی سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ لیکن بڑے پیمانے پر شدت پسندوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کے باوجود منگل کو برسلز میں ہونے والے حملوں سے اس تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ اور بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ان (داعش) کی یہاں جڑیں گہری ہیں۔۔۔ وہ (شدت پسند) یا تو ان ملکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں وہ موجود ہیں یا پھر ان ممالک کو جو داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔"

یورپی حکام بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک سفارتی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "ہمیں اس کا عادی ہونا ہو گا، ہم گزشتہ سال بھی دو مرتبہ ایسا کچھ دیکھ چکے ہیں۔"

انسداد دہشت گردی کے حکام کا کہنا ہے کہ برسلز میں ہوئے حملے گزشتہ نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں کی طرز ہی تھے۔

گزشتہ ہفتے ہی پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز صالح عبدالسلام کو مشترکہ کارروائی کے دوران برسلز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

سابق انٹیلی جنس افسر اور اب مختلف ممالک اور تنظیموں کو اسٹریٹیجک سکیورٹی انٹیلی جنس فراہم کرنے والے گروپ سوفان سے وابستہ پیٹرک سکنر کہتے ہیں کہ " یہ (برسلز حملے) اس بات کا بھی اشارہ ہو سکتے ہیں کہ (دہشت گرد) گروپس یہ کہہ رہے ہوں کہ عبدالسلام کی گرفتاری اختتام نہیں۔۔۔جو کہ نہیں ہے۔۔۔ اور اب بھی ایسے کافی سیلز اور چھوٹے گروپ ہیں جو کہ خطرہ ہیں۔"

لیکن ان کے بقول اگر داعش کے سیلز اب کارروائی کے لیے دباؤ محسوس کر رہے ہیں تو ان کے خیال میں یہ تشویش کا باعث ہے۔ "یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ان (داعش) کے کافی پراثر سیلز موجود ہیں۔"

مغربی حکام کا اندازہ ہے کہ یورپ میں تین ہزار سے زائد ایسے لوگ ہیں جو کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر ملوث ہیں اور اس بات پر خاصی تشویش ہے کہ داعش کے پاس خاصا وقت ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنے انداز میں ڈھال سکے۔

XS
SM
MD
LG