رسائی کے لنکس

اسرائیل اپنی بندرگاہوں پر فلسطینی علاقوں کے لیے آنے والے سامان پر محصولات اکٹھے کرکے فلسطینی اہلکاروں کو منتقل کرتا ہے۔

اسرائیل فلسطین کو ٹیکسوں کی مد میں اکٹھے کیے گئے کروڑوں ڈالر کی ادائیگی کر رہا ہے۔ اسرائیل نے یہ ادائیگی فلسطینی اتھارٹی کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں شامل ہونے کے منصوبے کی پاداش پر روک رکھی تھی۔

اسرائیل اپنی بندرگاہوں پر فلسطینی علاقوں کے لیے آنے والے سامان پر محصولات اکٹھے کرکے فلسطینی اہلکاروں کو منتقل کرتا ہے۔

فروری میں فلسطینی اتھارٹی نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جہاں وہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد کر سکتی ہے۔

گزشتہ سال حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران 2,200 فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے اکثر عام شہری تھے۔ اسرائیل جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتا ہے۔

فلسطین نے شکایت کی ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ادائیگی روکنے سے وہ مالی تباہی کے قریب پہنچ گیا ہے۔

جمعے کو ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ’’مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر ہمیں شدت پسند عناصر کے خلاف پرعزم جدوجہد کے ساتھ ذمہ داری اور لحاظ پر مبنی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔‘‘ ان کے دفتر نے انسانی ہمدردی کا حوالہ بھی دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جیف ریتھکی نے اسے ایک اہم قدم قرار دیا جو مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں استحکام کا باعث ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ امید کرتا ہے کہ دونوں فریقین اس اقدام کو آگے بڑھاتے ہوئے کشیدگی کم کریں گے۔

XS
SM
MD
LG