رسائی کے لنکس

کراچی اوربلوچستان سےمتعلق پارلیمانی کمیٹی کے ارکان سےگفتگو

  • قمرعباس جعفری

فائل فوٹو

فائل فوٹو

تحقیقاتی کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے علاوہ، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان شامل ہیں

قومی اسمبلی کی اسپیکر نےکراچی اور بلوچستان کے حالات پرتحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے کےلیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اِس حوالے سے، قومی اسمبلی کے ارکان اورکمیٹی میں شامل اراکین نور عالم اور سردار مہتاب خان نےاتوار کو’وائس آف امریکہ‘ کے حالات ِ حاضرہ کے پروگرام میں شرکت کی۔

کمیٹی کے دائرہٴ کار کے بارے میں بات کرتے ہوئےپیپلز پارٹی سےتعلق رکھنے والے رکن ِقومی اسمبلی نور عالم نے بتایا کہ کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے علاوہ، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان شامل ہیں۔

نور عالم کا کہنا تھا کا اب بھی کراچی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

اُن کے بقول، دہشت گرد کا کسی بھی پارٹی سے تعلق کیوںٕ نہ ہو یا کسی نے اُسے پناہ دی ہوئی ہو، کمیٹی کو بلا امتیاز ہو کر یہ بتانا ہوگا کہ اُس کے خلاف ایکشن ہو، اور کسی زیادتی نظر آنے پر اُس کی نشاندہی کی جائے گی۔

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی، سردار مہتاب خان کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمانی کمیٹی اُن کی پارٹی کے مطالبے پر قائم کی گئی ہے۔

سردار مہتاب کے الفاظ میں، کراچی کی صورتِ حال پیچیدہ ہے کہ تینوں سیاسی جماعتیں حکومتی اتحاد میں شامل بھی ہیں اور مخالف بھی ہیں۔ اگر کمیٹی کے تمام ارکان دیانتداری سے کام کریں توحقائق جاننے میں آسانی ہوگی ۔

اُن کے بقول، جہاں تک کراچی کا تعلق ہے وہاں پر کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہے۔ بہت سی چیزیں ہمارے علم میں ہیں، جنھیں اکٹھا کرنے اور سچ بولنے کی ضرورت ہے۔

تاہم، سردار مہتاب کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا معاملہ مختلف ہے، جس حوالے سے یہ جاننے کی ضرورت ہوگی کہ پچھلے ساڑھے تین برسوں کے دوران بلوچستان کو قومی دھارے میں لانے کی تمام ترکوششیں ابھی تک کیوں بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔

اُن کے الفاظ میں کمیٹی کواہم ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ تمام حقائق سامنے لائے اور حکومت کو مجبور کرے کہ کراچی اور بلوچستان میں اپنی تمام پالیسیوں کوتبدیل کرے، جِس کی بدولت امن آسکے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG