رسائی کے لنکس

کراچی: ہلاکتوں کی تعداد 60 ہوگئی، جمعہ کو یوم سوگ کا اعلان


کراچی: ہلاکتوں کی تعداد 60 ہوگئی، جمعہ کو یوم سوگ کا اعلان

کراچی: ہلاکتوں کی تعداد 60 ہوگئی، جمعہ کو یوم سوگ کا اعلان

کراچی میں جمعرات کو پرتشدد واقعات اور مسافر بسوں پر فائرنگ سے مزید 25 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ مجموعی طور تین روز میں ہلاکتوں کی تعداد 60 سے تجاوز کر گئی ۔ایم کیو ایم نے جمعہ کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اگر حالات درست نہ ہوئے تو کل سے بسیں روڈ پر نہیں لائی جائیں گی۔

دوسری جانب شہر میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کی حکومتی کوششیں جاری ہیں اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے شہر میں قیام امن کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے ۔

منگل کو کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن اور حسن اسکوائر میں دو گروہوں کے درمیان تصادم نے دو دن کے دوران شہر کے دیگر علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔اورنگی ٹاؤن ، قصبہ کالونی اور گرد و نواح کے علاقے تیسرے روز بھی میدان جنگ کا منظر پیش کر تے رہے ۔ اورنگی میں پہاڑوں پر مسلح افراد نے چوکیاں قائم کر رکھی ہیں جہاں سے وہ شہریوں پر جدید اور خود کار اسلحہ سے وقفے وقفے سے فائرنگ کرتے رہے جس سے علاقے کے مکین اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔

جمعرات کی شام اچانک مختلف روٹس کی مسافر بسوں پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ بنارس چوک پر دو مسافر بسوں پر فائرنگ سے پانچ ، نارتھ ناظم آباد میں مسافر بس پر فائرنگ سے پانچ اور میٹرول کے علاقے میں کوچ پر فائرنگ سے تین افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اس کے علاوہ انڈہ موڑ اور دیگر علاقوں پر بھی مسافر بسوں پر فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔

کورنگی میں واقع ہریانہ کالونی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ، علی گڑھ کالونی ، بخاری کالونی ، مسلم آباد ، کٹی پہاڑی اور گردو نواح کے علاقوں سے بھی شر پسندی کی اطلاعات ہیں ۔ فائرنگ کے مختلف واقعات میں تین افراد لقمہ اجل بن گئے۔

ابوالحسن اصفہانی روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے ۔سخی حسن کے قریب قلندریہ چوک پر فائرنگ میں بھی متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ بلدیہ ٹاؤن میں ٹاؤن آفس پر بھی دستی بم سے حملہ کیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ سائٹ ٹاؤن کے علاقے ولیکا چوک پر نامعلوم افراد نے آٹھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ۔

مسافر بسوں پر فائرنگ اورجلاؤ گھیراؤ کے بعد کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بسوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو جمعہ کو بسیں روڈ پر نہیں لائی جائیں گی ۔

جمعرات کو شہر بھر میں شدید خوف و ہراس پایا گیا اور مختلف افواہیں سر گرم رہیں جس سے عوام کے بے چینی میں مزید اضافہ دیکھا گیا ۔ صبح سے ہی یہ افواء گرم تھی کہ شہر میں دو روز کی ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد شہر بھر کے پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑا ۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے شہر میں قیام امن کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس میں آئی جی سندھ ، قائم مقام ڈی جی رینجرز ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سندھ ، سی سی پی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہ شرکت کریں گے ۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی کے مطابق اس اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیں گے اور جمعہ کو وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو حالات سے آگاہ کریں گے ۔

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کے مطابق دہشت گردوں کی لسٹیں تیار کر لی گئی ہیں اور شر پسند عناصر کے خلاف بھر پور ایکشن لیا جائے گا ۔ آئی جی سندھ واجد درانی کے مطابق شہر کے متاثرہ علاقوں میں ایگل فورس کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG