رسائی کے لنکس

کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں 10ہلاک


کراچی میں تشدد کے نتائج

کراچی میں تشدد کے نتائج

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے شہر میں فائرنگ کے واقعا ت میں ہلاکتوں کا یہ نیا سلسلہ جمعرات کی رات شروع ہوا جب عوامی نیشنل پارٹی ”اے این پی“کے ایک عہدیدار بشیر جان کی گاڑی پر غریب آباد کے قریب حسن اسکوائر میں فائرنگ کی گئی ۔ حملے میں بشیر جان اور اُن کا محافظ زخمی ہو گیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں بشمول بنارس، اورنگی اور لیاقت آباد میں فائرنگ کے واقعات میں کم ازکم 10 افرا د ہلاک ہو ئے ہیں ۔ شہر میں حالات کشید ہ ہیں اور بعض علاقوں میں دوکانیں بند ہیں جب کہ ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔ تاہم مقامی میڈیا اور ایم کیو ایم کے ایم رہنما فیصل سبزواری کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 20 سے زائد ہے۔

کراچی میں ماضی میں بھی فائرنگ کے واقعات میں بیسیوں افراد مارے جاچکے ہیں اور شہر کی دو بڑی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی ان کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائدکرتی رہی ہیں۔

تاہم جمعہ کو لاہور میں وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والے پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے سیاسی محرکات کارفرما نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت ملک میں قتل وغارت اور امن وامان کی خراب صورتحال دیکھنا نہیں چاہتی۔

کراچی میں ہدف بنا کر قتل کیے جانے کے واقعات کا سلسلہ گذشتہ چند سالوں سے جاری ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صرف 2010 ء میں لسانی، سیاسی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر کراچی میں 711 افر اد قتل کیے گئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

XS
SM
MD
LG