رسائی کے لنکس

کراچی میں شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا حکم


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں پولیس سے کہا کہ شہر میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان عناصر کے خلاف مربوط کارروائی کی جائے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں بدامنی سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ نے ہفتے کو اپنے عبوری حکم میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا ہے کہ شہر میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان عناصر کے خلاف مربوط کارروائی کی جائے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی بینچ گزشتہ کئی دنوں سے ملک کے اقتصادی مرکز کراچی میں بدامنی کی صورت حال سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہا تھا جس پر ہفتہ کو عبوری حکم جاری کیا گیا۔

عبوری حکم میں عدالت نے پولیس کو شہر میں مسلح گروہ کے خلاف موثر کارروائی کرنے اور اسلحہ لائسنسوں کے نظام کو کمپوٹرائزڈ بنانے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کے بعد وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ملک کے اقتصادی مرکزی کراچی میں شدت پسندوں کے عناصر کے خلاف پہلے سے کارروائی جاری ہے تاہم عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

’’طالبان کی فیملیاں (کراچی میں) رہتی ہیں، میں اس کی پوری تفصیلات نہیں بتاؤں گا۔ لیکن میں یہ بتا دوں کہ کبھی (طالبان کے) خلاف کارروائی بند نہیں ہوئی… ہم نے پہلے جو کارروائیاں کی ہیں ان سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔‘‘

رحمٰن ملک نے کہا کہ طالبان کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں یا عوام نےمعلومات فراہم کیں تو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں کوئی ’کوتاہی نہیں‘ برتی جائے گی۔

عدالت نے سفری دستاویزات کے بغیر کراچی میں مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا جب کہ پولیس سے کہا گیا ہے کہ پیرول پر رہا کیے جانے والےملزمان کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

عبوری حکم میں کراچی کی ضلعی انتظامیہ کو شہر میں موجود غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف فوری کارروائی کا پابند بھی بنایا گیا ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومت سے کہا کہ محکمہ پولیس میں سیاسی عمل دخل کو مکمل طور پر ختم کر کے مستقبل میں بھرتیوں کے نظام کر شفاف بنایا جائے۔ شہر میں تعینات رینجرز فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ جب بھی کسی ملزم کو گرفتار کرے تو اسے فوراً پولیس کے حوالے کیا جائے۔

کراچی میں بدامنی کے خلاف شہر کی تاجر برادری بھی سراپا احتجاج ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں بہت سے کاروباری حضرات ملک سے اپنا سرمایہ باہر لے جا رہے ہیں۔

لیکن گزشتہ ہفتے صدر آصف علی زرداری اور گورنر سندھ عشرت العباد نے کراچی کے تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
XS
SM
MD
LG