رسائی کے لنکس

کینیا کی فوج اور پویس کو امریکی حکومت کی جانب سے فنڈز کی محرومی کا خطرہ ہے۔ امریکی سینیٹ میں غیر ملکی امداد سے متعلق ایک بل میں کہا گیا ہے کہ کینیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ بڑی ہولناک ہے اور اس میں اصلاح کرنے ضرورت ہے۔

کینیا کے فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد امریکی قانون ساز اس ملک کی فوج اور پولیس کے لیے فنڈز کی فراہمی روک دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ قانون ساز یہ کارروائی سینیٹ کی ایک کمیٹی میں ایک بل کے ذریعے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سے بھی یہ یقین دہانی کرانے کے لیے کہاہے کہ کینیا کی دفاعی افواج اور پولیس کو ، جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مبینہ الزامات ہیں، تربیت، سازوسامان یا کسی اور طرح کی امداد فراہم نہیں کی جائے گی۔

بل میں 2008ء میں کینیا کے شمال مشرقی علاقوں ماؤنٹ ایلگان، گاریسا، وجیرہ اور مندرہ اور نومبر 2011ء سے جنوری 2012ء کے دوران اور حالیہ عرصے میں اور دسمبر کے مہینے میں دادآب پناہ گزین کیمپ میں پیش آنے والے انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے متعدد واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی جانب سے اس کارروائی کی تجویز انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے ردعمل میں پیش کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2008ء میں سرکاری فورسز نے گوریلوں کے ساتھ مل کرماؤيٹ ایلگان میں لوگوں کو قتل کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی ایک کے ساتھ جنسی زیادتی کی ۔رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں تقریباً 750 افراد ہلاک کیے گئے اور سینکڑوں افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک ریسرچر نیلا غوشل یہ رپورٹ گذشتہ مہینے شائع کی تھی۔ ان کا کہناہے کہ اب یہ کینیا کی فوج کے لیے تبدیلی کا مقام ہے۔

ان کا کہناہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم کئی مہینوں سے کینیا کی سیکیورٹی فورسز کی توجہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی جانب دلارہے ہیں اور مقامی تنظیموں اور متاثرہ افراد نے خود بھی یہ خلاف وزریاں سیکیورٹی فورسز کے علم میں لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے کوئی کارروائی نہیں کی۔اور اب ہم یہ امید کررہے ہیں کہ امریکی سینیٹ نے فنڈز سے متعلق جس کارروائی کی جانب اشارہ کیا ہے ، اس سے کینیا کے حکام کو اس جانب متحرک کرنے میں مدد سکتی ہے وہ ان واقعات کی تحقیقات کریں اور بالخصوص فوج اور پولیس کے ان عہدے داروں کے خلاف کارروائی کریں جو اس کے ذمہ دار ہیں۔

کینیا کی فوج نے اصل بل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کینیا کی دفاعی افواج کے ترجمان کرنل سائرس اوگونا کا کہناہے کہ کینیا کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہت اہم ہیں۔

ان کا کہناہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ اور ہمارے ان تعلقات میں بڑی گرم جوشی پائی جاتی ہےاور ہم میں بہت سے چیزیں مشترک ہیں اور بہت سے مفادات سانجھے ہیں۔

اب سینیٹ کی کمیٹی نے امریکی وزیر خارجہ کلنٹن سے کہاہے کہ وہ اس بارے میں ایک رپورٹ فراہم کریں کہ آیا کینیا کی حکومت نے یہ جاننے کے لیے کہ آیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کوئی فوجی یونٹ تو ملوث نہیں ہے، قابل اعتماد تحقیقات کی ہیں ۔

اس قانونی مسودے کی ، جسے غیر ملکی فوجی فنڈز اور مدد سے متعلق اگلے سال کے امریکی بجٹ میں شمولیت کے لیے بھیجا جائے گا،کسی عملی اقدام سے قبل سال رواں میں اس کی امریکی سینیٹ اور ایوان نمائند گان کی منظوری درکار ہوگی۔

XS
SM
MD
LG