رسائی کے لنکس

سیاسی معاملات پر گہر ی نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جے یو آئی ف اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے اندرون سندھ ہڑتال، مظاہروں اور ریلیوں نے سندھ میں جے یو آئی کو ایکٹو ہونے کا بھرپور موقع فراہم کردیا ہے

’جمعیت علمائے اسلام ف‘ کے سینئر رہنما، مولانا خالد محمود سومرو کے قتل نے پارٹی کو نئی زندگی بخش دی ہے۔ ایک جانب پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جن کی سیاست پر گرفت کچھ مہینوں سے کمزور پڑتی دکھائی دے رہی تھی، اس میں ناصرف ’گرمی‘ آگئی ہے، بلکہ قتل کے واقعے نے انہیں ’پس منظر‘ سے نکال کر ’پیش منظر‘ میں لاکھڑا کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچے یہ باتیں سننے میں عجیب لگتی ہیں۔ لیکن، زمینی حقائق یہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قتل کے بعد سے اندرون سندھ کو اپنی توجہ اور سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ہے اور 5دسمبر کو ملک بھر میں احتجاجات کے اعلان کے بعد سے تو گویا مولانا فضل الرحمٰن میڈیا کی بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

پاکستانی سیاست کے افق پر پچھلے چار مہینے سے ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان اور دھرنوں کے شور میں باقی جماعتوں کی اہمیت کم ہوگئی تھی اور لگتا یوں تھا کہ جیسے یہ جماعتیں پس منظر میں چلی گئی ہوں۔ لیکن، ہفتہ 29نومبر کو سکھر میں جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما خالد محمود سومرو کے قتل سے ان جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر سامنے آنے کا موقع مل گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن عمران خان کے مخالف ہیں اور ان کی مخالفت اس وقت کھل کر سامنے آئی تھی جب دھرنوں سے نمٹنے کے لئے کئی روز تک پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری رہا اور تمام ارکان کو باری باری بولنے کا موقع دیا گیا۔ مولانا نے اپنی باری آنے پر مائیک سنبھالا اور عمران خان کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد پہلے عیدالاضحیٰ اور پھر محروم کی آمد سے دھرنوں کا شور بہت حد تک ختم ہوگیا۔ یہاں تک کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی کابینہ کو بھی خاصی راحت ملی اور وزیراعظم چین و امریکہ سمیت متعدد ممالک کے دورے بھی پر سکون انداز میں کرآئے۔

ادھر عمران خان کی 30نومبر کے احتجاج کی کال سے ماحول ایک مرتبہ پھر گرم کئے رکھا، جبکہ اس سے قبل وہ تمام بڑے شہروں میں ریلیاں اور دھرنے بھی کرتے رہے۔ اس دوران، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ثالث کے طور پر سامنے آئے اور میڈیا میں اپنی جماعت کو سرگرم رکھنے میں مصروف رہے۔ لیکن، جمعیت علمائے اسلام ف کو چار ماہ تک پس منظر سے نکلنے کا موقع نہیں ملا، اب مولانا خالد محمود سومرو کے قتل کے بعد سے مولانا فضل الرحمٰن بھی پوری طرح ’ایکٹیو‘ ہوگئے ہیں؛ اور، انہوں نے عمران خان کی طرح ہی مختلف تاریخوں پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جے یو آئی ف اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے اندرون سندھ ہڑتال، مظاہروں اور ریلیوں نے سندھ میں جے یو آئی کو ایکٹو ہونے کا بھر پور موقع فراہم کردیا ہے کیوں کہ جے یو آئی ف کے ساتھ اس وقت سندھ کی ایک دو نہیں کئی جماعتیں ہم قدم ہیں۔ ان میں ’جئے سندھ متحدہ محاذ‘، ’قومی عوامی تحریک‘ ، ’سندھ بچاوٴ کمیٹی‘ اور ’جسقم‘ سرفہرست ہیں۔

ہڑتال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں حیدرآباد اور خاص کر اس کا ایک علاقہ ’قاسم آباد‘ ہے، جہاں کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشنز بند رہے۔ یہاں سے اندرون ملک چلنے والی ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم رہی۔

ایسی ہی کچھ صورتحال سکھر، لاڑکانہ، جامشورہ، نواب شاہ، میرپور خاص، دادو، جیکب آباد، شکار پور، کندھ کوٹ، بدین، تھرپارکر، ٹھٹھہ، خیرپور، ٹنڈو محمد خان، نوشہرو فیروز، پڈعیدن اور میہڑ سمیت کئی شہروں میں بھی دکھائی دی جبکہ شٹر ڈاوٴن ہڑتال کے سبب اسپتالوں میں او پی ڈیز کا بائیکاٹ بھی ہوا۔ضلع بھر کے وکلا بھی عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کرتے رہے۔

ایک روز قبل ہی سکھر میں جے یو آئی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’جے یوآئی ف پاکستان کی سب سے بڑی اور اس وقت کی سب سے مظلوم مذہبی جماعت ہے جسے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے ڈاکٹرخالد محمود سومرو کے قتل کو بھی’قومی سانحہ‘ قرار دیا۔

جے یو آئی ف کی جانب سے ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب قوم پرست رہنماوٴں کو بھی اپنے کارکنوں کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ پر غم و غصہ ہے۔ وہ بھی احتجاجی مظاہروں پر نکلے ہوئے ہیں، جبکہ تیسری جانب تھرپارکر میں بچوں کی اموات کو لیکر بھی عوام میں غصہ ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق سندھ کی یہ صورتحال جے یو آئی کے لئے آئیڈیل ثابت ہوسکتی ہے۔

قومی عوامی تحریک کے رہنما، اعجاز لطیف پلیجو کے خیال میں علماء اور سیاسی کارکنوں کو قتل کرکے سندھ میں بلوچستان جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مسئلہ کی جڑ
نومبر میں کم از کم پانچ قوم پرست کارکنوں کو مبینہ طور پر جبری روپوشی کے بعد قتل کر دیا گیا، جبکہ قوم پرست جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے دو درجن سے زیادہ کارکن اب بھی لاپتہ ہیں۔

جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی نے حیدرآباد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں خطاب کے دوران کہا کہ سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور قتل سندھ کے پرامن عوام کے لئے کسی طور قابل قبول نہیں۔

پیر کے روز سکھر میں اپنی پارٹی رہنما آغا ایوب کی رہائش گاہ پر میڈیاسے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’سیاسی مذاکرات سنجیدہ سیاستدانوں سے کئے جاتے ہیں جوکروں سے نہیں۔‘

انہوں نے عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ ’سی پلان‘ پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ، ’اے سے زیڈ تک عمران خان کے تمام پلان ناکام ہوجائیں گے۔‘

XS
SM
MD
LG