رسائی کے لنکس

کرغزستان میں تشدد کا نشانہ عام شہری بنے

  • پیٹر فیدینسکی

کرغزستان میں ایک ہفتے کے نسلی تشدد میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ سب عام لوگ ہیں اور ان میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

آبرو ریزی، لوٹ مار، اور غارت گری، یہ وہ الفاظ ہیں جو پرانے زمانے کے بحری قزاقوں اور وحشیوں کے حوالے سے استعمال کیے جاتے تھے۔ لیکن آج جنوبی کرغزستان اسی وحشیانہ پاگل پن کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں کرغز اکثریت کے ہاتھوں ازبک اقلیت پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ۔

آٹھ دن کے تشدد میں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 200 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن کرغزستان کی عبوری لیڈر روزا وتان بائیوا کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے ۔ افراتفری میں مرنے والوں کی تعدادمعلوم کرنا آسان کام نہیں ۔ دوکانیں اور کاروباری مراکز کو لوٹا گیا ہےاور جلا دیا گیا ہے ۔ گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق، چار لاکھ افراد کو یہ علاقہ چھوڑنا پڑا ہے ۔بہت سی نوجوان لڑکیوں کی آبرو ریزی کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

متلیبا اکرامووا نے بتایا کہ اوش کے شہر میں جب ان کی رشتے دار 16 سالہ لڑکی جو چُھپی ہوئی تھی، اپنے زخمی باپ کے سر کی مرہم پٹی کرنے باہر نکلی، تو ایک ہجوم نے اسے گھیر لیا۔اکرامووا نے بتایا کہ ان لوگوں نے اس لڑکی کے باپ کے سامنے اس کی عزت لوٹ لی۔ انھوں نے اس بچی کے ساتھ جو کچھ کیا ، وہ وحشی درندے بھی نہ کرتے۔

اوش میں ایک ازبک ڈاکٹر نے رپورٹروں کو بتایا کہ بہت سے لوگ اتنے زیادہ دہشت زدہ ہیں کہ ان پر جو کچھ بیتی ہے، وہ اسے بیان بھی نہیں کر سکتے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک تحقیق اینا نئیستات کہتی ہیں کہ مظالم کا شکار ہونے والوں کی صحیح تعداد کا پتہ چلانا مشکل ہے۔’’میں نے ابھی ابھی ایک عورت سے بات کی ہے جس کی آبرو ریزی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اور بھی کیس ہوں گے ۔ میرے خیال میں اسی جگہ پر اور بہت سی عورتوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سب کتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔‘‘

علی شیر خادموف جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں وسط ایشیا پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ انھو ں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مجرموں کے ٹولے لوگوں کو اغوا بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا’’وہ مالدار ازبک شہریوں کو اغوا کر رہے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے تاوان طلب کر رہے ہیں۔ سرکاری ادارے امن و امان قائم کرنے میں بالکل ناکام ہو گئے ہیں۔‘‘

اقوامِ متحدہ، امریکہ اور روس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ گزینوں کو مدد فراہم کی ہے ۔سرحد پار ازبکستان میں داخل ہو جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ تک ہو سکتی ہے ۔ بہت سے پناہ گزیں کرغزستان کی سرحد کے پاس جمع ہیں۔

حالیہ واقعات کی وجہ سے پناہ گزینوں کو بہت مصائب برداشت کرنا پڑے ہیں لیکن آنے والا وقت ان کے لیے اور زیادہ مشکل ہو گا۔ ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز سے وابستہ ذہنی صحت کے ماہر، ڈاکٹر کیلون وائٹ پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہر نئے دن کے ساتھ ، اپنے مستقبل کے بارے میں ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اصل پریشانی اس وقت شروع ہو گی جب وہ سوچیں گے کہ اب کیا ہوگا۔ ہم کہاں جائیں گے۔‘‘

ایک اور سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ ظلم ڈھائے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ علی شیر خادموف کہتے ہیں کہ شاید کچھ بھی نہیں۔’’گذشتہ چند دنوں میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں کئی ہزار نوجوان شریک تھے۔ مشکل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کی شناخت بہت مشکل ہے کیوں کہ جیسے ہی فسادات ختم ہوئے ان نوجوانوں نے تیزی سے اپنا بھیس بدل لیا۔ اب وہ عام سویلین آبادی میں شامل ہو گئے ہیں۔‘‘

کرغزستان کی عبوری لیڈر وزا اوتان بائیوا بالآخر اوش پہنچ گئی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تشدد کم ہورہا ہے ۔اس سے پہلے سکیورٹی کی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ وہاں جا ہی نہیں سکتی تھیں۔انھوں نے شہر کو دوبارہ بنانے کا اور پناہ گزینوں کو واپسی کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری رابرٹ بلیک نے کرغزستان میں عبوری دور کے عہدے داروں سے ملنے سے پہلے ازبکستان میں پناہ گزیں کیمپوں کا دورہ کیا۔

XS
SM
MD
LG