رسائی کے لنکس

افغانستان کے لیے لندن کانفرنس سے امریکہ کی توقعات

  • ڈین رابنسن

افغانستان کے لیے لندن کانفرنس سے امریکہ کی توقعات

افغانستان کے لیے لندن کانفرنس سے امریکہ کی توقعات

افغانستان اور پاکستان کے لیے صدر باراک اوباما کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ لندن میں 28 جنوری کی کانفرنس سے امریکہ اور دوسرے ملکوں کو افغانستان کے لیے حمایت حاصل کرنے کا اچھا موقع ملے گا۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سامنے رچرڈ ہالبروک اور برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بیانات دیے۔

لندن میں ہونے والی اس کانفرنس کے ذریعے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس، اقوامِ متحدہ اور دنیا کے دوسرے ملکوں کو مِل بیٹھنے کا موقع ملے گا۔ وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن اور سفیر ہالبروک بھی اس میٹنگ میں موجود ہوں گے۔ اُمید ہے کہ اس موقع پر کافی بڑی امدادی رقوم کے وعدے مِل جائیں گے اور غیر فوجی امداد کے استعمال کی واضح تصویر سامنے آ جائے گی۔
رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ گذشتہ سال صدر اوباما کے 30,000 مزید امریکی فوجی بھیجنے کے فیصلے کےبعد ضروری ہو گیا ہے کہ سب لوگ مِل بیٹھیں اور مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن، وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور ان کی حکومت کے شکر گذار ہیں کہ اُنھوں نے ہمیں لندن آنے کی دعوت دی ہے اور ہم بڑے جوش و خروش کے ساتھ وہاں جا رہے ہیں۔
ہالبروک نے سینیٹ کے سامنے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب وزارتِ خارجہ نے 30 صفحات کی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں افغانستان اور پاکستان میں کئی سال کے لیے سویلین عملے کی موجودگی کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں امریکہ کا فوجی مشن غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ہے لیکن امریکہ اس علاقے میں امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے سیاسی، سفارتی اور اقتصادی شعبوں میں پوری طرح سرگرم رہے گا۔
عام طور سے امریکی سینیٹ کے سامنے غیر ملکی سرکاری عہدے دار بیان نہیں دیتے۔ تا ہم برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے امریکی سینیٹ کے پینل سے کہا کہ افغان فورسز کو ملک کی سلامتی کی ذمہ داری منتقل کرنا بڑا اہم اقدام ہو گا۔ اُنھوں نے اس وقت کو افغانستان کے لیے فیصلہ کن لمحہ قراردیا اور بتایا کہ لندن کانفرنس کا سب سے بڑا کارنامہ کیا ہو سکتا ہے ’’اگلے ہفتے کی کانفرنس سے ہم جو اہم ترین چیز حاصل کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے تقریباً 70 وزرائے خارجہ اورعام لوگ افغانستان کے مستقبل کے لیے کسی واضح اور مربوط منصوبے پر متفق ہو جائیں‘‘۔
امریکی کانگریس میں اوراوباما انتظامیہ میں افغانستان میں ہر طرف پھیلے ہوئے کرپشن کے بارے میں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ صدر کرزئی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں۔ سینیٹ کی کمیٹی کے چیئرمین، ڈیموکریٹ جان کیری نے کہا کہ کابل میں اور افغانستان کے صوبوں میں نظم و نسق کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اُنھوں نے اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ کرپشن سے افغانستان کو ہر سال ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ افغانستان میں عام لوگوں کو عدم استحکام یا بے روزگاری کے مقابلے میں بد عنوانی کے بارے میں زیادہ تشویش ہے ۔
مسٹر کیری نے کہا ’’حقیقی اصلاحات کا مطلب ہے ڈسٹرکٹ کی سطح پر موثر لوگوں کا تقررکرنا۔ عام لوگوں کا اپنی حکومت سے رابطہ ان لوگوں اور سرکاری عہدے داروں کے ذریعے ہی ہوتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ایک نئے سروے سے پتہ چلا ہے کہ گذشتہ سال ہر دو افغان باشندوں میں سے ایک نے سرکاری ملازموں کو رشوت دی ۔ رشوت ستانی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن گئی ہے، اور یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیئے‘‘۔
کابل میں طالبان کے حالیہ حملوں کے باوجود رچرڈ ہالبروک نے کرپشن اور دوسرے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کابل کی صورتِ حال کو امید افزا قرار دیا ’’میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ کرپشن کل ختم ہو جائی گی۔ یہ ممکن نہیں ہے اور صدر کرزئی اکیلے اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ میں یہ وعدہ نہیں کرنا چاہتا کہ لوگوں کو دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے سے ہزاروں لوگ میدانِ جنگ چھوڑ جائیں گے۔ میں سینیٹر سے اور بقیہ کمیٹی سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب سے نئی انتظامیہ نے کام شروع کیا ہے مجھے کابل کی صورتِ حال پورے سال کے مقابلے میں اب بہتر نظر آئی ہے اور ہمیں جو حالات ورثے میں ملے تھے وہ خاصے خراب تھے‘‘۔
اوباما انتظامیہ کی توقع یہ ہے کہ اگلے ہفتے کی لندن کانفرنس میں افغان حکومت کے ان منصوبوں کے لیے کہ آبادی کے تمام طبقوں کو دوبارہ معاشرے کا حصہ بنا یا جائے، کافی فنڈز اکٹھے ہو جائیں گے اور مستقبل کے لیے ایک واضح اور مربوط منصوبہ بنا لیا جائے گا جس پر برطانوی وزیر خارجہ نے جمعرات کی سماعت میں زور دیا تھا۔
رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ لندن کانفرنس کے بعد اس سال کے ا ٓخر میں کابل میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو گی جس میں افغان حکومت افغانستان عوام کے سامنے باقاعدہ طور پر اپنے وعدوں کا اعلان کرے گی۔
XS
SM
MD
LG