رسائی کے لنکس

لیاری میں تین دنوں تک شدید گینگ وار کے بعد ہفتے کو دونوں گروپوں میں امن معاہدہ طے پاگیا ۔ قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو نے معاہدے کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی خدمات کا دعویٰ کیا ہے۔

کراچی کے علاقے لیاری میں کئی دنوں کی ہنگامہ خیزی کے بعد ہفتے کو اچانک خاموشی چھاگئی جبکہ گینگ وار میں ملوث دونوں گروپوں نے بظاہر آپسی لڑائی بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اس اچانک خاموشی کاسہرا قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو کے سر باندھا جارہا ہے تاہم علاقہ مکینوں اور سیاسی مبصرین و تجزیہ نگاروں کو خدشہ ہے کہ یہ امن کہیں عارضی ثابت نہ ہو۔

پولیس اور علاقہ مکینوں کاکہنا ہے کہ اس وقت لیاری میں دوگروپوں کے درمیان قبضے کی جنگ گینگ وار میں بدل گئی ہے۔ ایک جانب عذیر لوچ ہے تو دوسرے گروپ کا سربراہ بابالاڈلہ ہے۔ دونوں گروپس کے درمیان تین دن سے زبردست مقابلہ چل رہا تھا جس میں 15سے زائد افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پولیس افسران کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر عام خواتین ، طالبات اور راہگیر شامل ہیں۔

ادھر ہفتے کو قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ عذیر جان بلوچ اور بابا لاڈلا گروپ کے نمائندوں نے ان سے ملاقات کی ہے ۔

ایاز لطیف پلیجو کے مطابق دونوں گروپس کے درمیان 9نکاتی مشترکہ اعلامیہ طے پاگیا ہے ۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں گروپ آج سے اختلافات ختم کر کے لڑائی بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں لیاری میں قیام امن کیلئے پلیجو کی سربراہی میں ایک اتحاد کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس میں علاقے سے انتخابات جیتنے والی پہلی خانون ثانیہ بلوچ اور عبدالمجید سرہاڑی کو رکن بنایا گیا ہے۔ ثانیہ عذیر بلوچ اور عبدالحمید اور بابا لاڈلہ کی طرف سے سرہاڑی کو رکن بنایا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG