رسائی کے لنکس

ملائیشیا: وزیر اعظم 'مالیاتی اسکینڈل' سے بری


وزیراعظم نجیب رزاق (فائل فوٹو)

وزیراعظم نجیب رزاق (فائل فوٹو)

گزشتہ ایک سال سے  نجیب کو ملائیشیا کی سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ترقیاتی ادارے 'ون ملائیشیا ڈویلپمنٹ برہد' میں سے غائب ہونے والے فنڈز کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔

ملائیشیا کے اٹارنی جنرل نے وزیر اعظم نجیب رزاق کو 68 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مبینہ طور پر اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی بدعنوانی کے الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔

محمد آپاندی نے منگل کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ رقم سعودی شاہی خاندان کی طرف سے نجیب کو 2013 کے اوئل میں ذاتی عطیہ کے طور پر دی گئی تھی۔ آپاندی نے کہا کہ وزیر اعظم نے 62 کروڑ ڈالر سعودی شاہی خاندان کو واپس کر دیے تھے چونکہ یہ خرچ نہیں ہوئے تھے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ "میں تحقیقات کے نتائج سے مطمین ہوں کہ یہ فنڈز رشوت نہیں ہے جو کہ بدعنوانی سے دیے گئے تھے"۔ تاہم اٹارنی جنرل نے اس بات کی کوئی توجیہ بیان نہیں کی کہ سعودی خاندان نے یہ عطیہ کیوں دیا نہ ہی انہوں نے چھ کروڑ دس لاکھ ڈالر کی باقی رقم کے متعلق کوئی وضاحت کی ہے۔

گزشتہ ایک سال سے نجیب کو ملائیشیا کی سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ترقیاتی ادارے 'ون ملائیشیا ڈویلپمنٹ برہد' میں سے غائب ہونے والے فنڈز کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔

ملائیشیا کے انسداد بدعنوانی کمیشن کی طرف سے کی گئی ایک گزشتہ تحقیقات کے مطابق یہ رقم ایک سیاسی عطیہ تھی جو مشرق وسطیٰ کے ایک نامعلوم محسن کی طرف سے تھا۔

نجیب نے آپاندی کے ایک پیش رو جس نے اس معاملے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا کو اس کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG