رسائی کے لنکس

وہ خوش قسمت ہیں کہ نہ انہیں کبھی سیاسی روگ بھوگنے پڑے اور نہ کبھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ وہ کبھی بھی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں رہے

پاکستان کے نو منتخب صدر ممنون حسین کو برنس روڈ کراچی سے ایوان صدر واقع شاہراہ دستور اسلام آباد تک پہنچنے کا سفر آج مکمل ہوگیا۔ ناقدین کے مطابق اسے’ اتفاق‘ کہیئے یا’ کمال‘ ایک شہر سے دوسرے شہر تک کا طویل ترین سفر طے کرنے کے باوجود ان کے راستے ایک بھی ’سیاسی پڑاوٴ‘ نہیں آیا۔
ممنون حسین اس حوالے سے بھی خوش قسمت ہیں کہ نہ انہیں کبھی سیاسی روگ بھوگنے پڑے اور نہ ہی انہیں کبھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ وہ کبھی بھی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں رہے اور انہوں نے کبھی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑا۔ ان کے پاس کوئی بڑا پارٹی عہدہ بھی کبھی نہیں رہا اور نہ ہی وہ کبھی کسی سیاسی پارٹی یا سرکاری عہدے کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
لیکن، اس کے باوجود، وہ ملک کے سب سے بڑے عہدے کے لئے منتخب ہوگئے۔
نومنتخب صدر ممنون حسین 1940ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حاجی اظہر حسین ہے۔ ان کا آبائی شہر تاج محل کی سرزمین۔۔ آگرہ ہے۔ اس شہر میں ان کے والد جوتے بنانے والی ایک فیکٹری کے مالک تھے، اس لئے ان کا شمار آگرہ کی پیسے والی شخصیات میں ہوتا تھا۔
گذشتہ روز میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ممنون حسین نے بتایا کہ وہ پانچ بھائی تھے اور ان کی دو بہنیں تھیں۔ ایک بہن اور دو بھائی مالک حقیقی کے پاس جاچکے ہیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں جن کے نام عدنان حسین، سلمان حسین اور ارسلان حسین ہیں۔ سلمان حسین سٹی بینک کے ڈائریکٹر گلوبل ٹرانزیکشن کنٹری ہیڈ ہیں، جبکہ ارسلان حسین اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور عدنان حسین سامبا بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
کراچی میں ممنون حسین کی پہلی پہچان کپڑے کے تاجر کی ہے۔ وہ کراچی کی اللہ والی مارکیٹ برنس روڈ پر ایک کپڑے کی دکان چلایا کرتے تھے، جبکہ آرام باغ برنس روڈ ہی ان کی ایک فلیٹ میں رہائش بھی تھی ۔ ان کا یہ کاروبار آبائی تھا۔ والد ہجرت کرکے پاکستان پہنچے تھے۔ انہوں نے پہلے جوتا فیکٹری اور بعد میں کپڑے کی دکان کھولی۔ دیکھتے دیکھتے ان کا یہ کاروبار پھولتا چلا گیا۔ ممنون حسین بھی تعلیم سے فراغت کے بعد اسی کاروبار سے جڑ گئے تھے۔
ممنون حسین نے انٹر اور بی کام کا امتحان کراچی کے ہی گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس سے 1963ء میں پاس کیا، جبکہ 1965ء میں انہوں نے آئی بی اے کراچی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
ممنون حسین کاروبار کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کی کاروباری سرگرمیوں سے بھی جڑے رہے جس کے سبب سنہ 1999میں وہ ایوان صنعت وتجارت کراچی کے صدر منتخب ہوئے۔ بعد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیدار بنا دیئے گئے۔
ممنون حسین کا کہنا ہے کہ سنہ 1970 میں انہوں نے مسلم لیگ سے وابستگی اختیار کی لیکن وہ سیاست میں کبھی بھی سرگرمی کے ساتھ کوئی کردار ادا نہیں کرسکے۔ ان کے اور نواز شریف کے درمیان تعلق کا بہانہ 1993ء میں نواز شریف کی برطرف ہونے والی حکومت بنی۔
ممنون حسین نواز کی اسیری کے دنوں میں بھی اس سے برابر رابطے میں رہے۔ اسی رابطے کے عوض انہیں 90ء کی دہائی میں مسلم لیگ سندھ کا قائم مقام صدر بننے کا بھی موقع ملا۔ پھر سنہ 97ء میں انہیں سابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی کا مشیر بنادیا گیا۔
سنہ 1999 میں انہیں گورنرسندھ مقرر کیا گیا، کیوں کہ سندھ مں نواز حکومت اس وقت ڈگمگا رہی تھی۔ گورنر معین الدین حیدر تھے جنہیں مدت پوری ہونے سے پہلے ہی عہدہ چھوڑنا پڑا اور یوں قرعہ ممنون حسین کے حق میں نکلا۔ تاہم ان کی گورنری چند ماہ ہی چل سکی کیوں کہ سابق عسکری صدر پرویز مشرف نے 1999 ءمیں میاں نواز شریف کی حکومت کا تخہ الٹ دیا تھا۔
اب جبکہ مئی کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں اور صدر زرداری کے عہدے کی مدت مکمل ہونے والی ہے، لہذا ایک مرتبہ قسمت نے ان کا بھرپور انداز میں ساتھ دیتے ہوئے ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر انہیں بیٹھا دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG