رسائی کے لنکس

عطارد کی تازہ ترین تصویروں سے نئے انکشافات

  • جمیل اختر

عطارد کی تازہ ترین تصویروں سے نئے انکشافات

عطارد کی تازہ ترین تصویروں سے نئے انکشافات

امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنس دانوں نے خلائی جہاز میسنجر کے ذریعے سیارہ عطارد کی لی جانے والی اولین تصویریں جاری کردی ہیں۔ خلائی جہاز عطارد کے مدار میں پہنچنے کے بعد 17 مارچ سے اس کے گرد گردش کررہاہے۔

عطارد نظام شمسی کا سب سے چھوٹا سیارہ ہے اور سورج سے اس کا فاصلہ اوسطاً تین کروڑ 60 لاکھ میل ہے۔ یہ نظام شمسی میں سورج کے قریب ترین واقع سیارہ ہے۔ دن کے وقت اس سیارے کا درجہ حرارت تقریباً سات سو ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے جب کہ رات کے وقت وہ منفی 240 فارن ہائیٹ تک گر جاتا ہے۔

تصاویر سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ سیارے کی سطح چٹانی ہے اور اس میں کثیر تعداد گڑھے موجود ہیں۔ان تصاویر کے ذریعے سائنس دانوں کو اس سیارے کے بارے میں جس کا زمین سے فاصلہ لگ بھگ چار کروڑ 80لاکھ میل ہے مزید معلومات حاصل ہوں گی۔

خلائی جہاز میسنجر نے عطارد کے گرد چکر لگاتے ہوئے ایک وائیڈ اینگل کیمرے کے ذریعے اتاری گئی دو درجن سے زیادہ تصویریں زمینی مرکز پر بھیجی ہیں ، جن بڑی تعداد میں گڑھوں کو واضح طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ اکثر گڑھوں کی وجہ اس پر گرنے والے شہابیئے یا دیگر خلائی اجسام ہوسکتے ہیں۔

سائنس دانوں نے سب سے بڑے گڑھے کا نام فرانس کے معروف کلاسیکی موسیقار کلاؤڈ دبیسی کے نام پر دبیسی رکھا ہے۔ اس گڑھے میں دکھائی دینے والی چمک دار لہروں کے بارے میں ، جو عطارد کی سطح پر کئی سو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں، سائنس دانوں کا کہناہے کہ وہ عطارد پر گرنے والے خلائی اجسام کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

میسینجر مشن کی مدد سے عطارد پر جانز ہاپکنز یونیورسٹی میری لینڈ اور واشنگٹن کے کارنیگی انسٹی ٹیوشن میں کی جانے والی سائنسی تحقیق کے سربراہ شین سولومن کہتے ہیں کہ عطارد کی سطح کی رنگت بہت گہری ہے جس کی وجہ خلا ئی موسم کے اثرات ہیں۔ ان کا یہ بھی کہناہے کہ گڑھوں کے نزدیک جو علاقے روشن دکھائی دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نسبتاً کم عمر ہیں اور ممکنہ طورپر یہ علاقے گذشتہ ایک ارب سال کے دوران وجود میں آئے ہیں۔

ماہرین فلکیات کئی عشروں سے عطارد پر اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سیارے کا ابتدائی مطالعہ 1970ء کے عشرے میں امریکی خلائی جہاز میرینر -10 اور خلائی جہاز میسنجر کی بھیجے جانے والی معلومات کے ان ذریعے کیا جارہاتھا جو اس نے عطارد کے مدار میں پہنچنے سے قبل زمینی مرکز پر بھیجی تھیں ۔

سولومن کہتے ہیں کہ سیارے کے انتہائی قریب سے اتاری گئی حالیہ تصاویر کے بعد فلکیات کے ماہرین اس چھوٹے سیارے کا مطالعہ نئے پہلوؤں سے کررہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ عطارد ایک انتہائی حیرت انگیز سیارہ ہے جس کا مقناطیسی دائرہ اور ماحول منٹوں اور گھنٹوں کے حساب سے تبدیل ہوتا رہتاہے۔مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ہم اس سیارے کا مسلسل قریبی مشاہدہ کررہے ہیں اور اس پر مستقل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عطارد کا مقناطیسی ماحول ، اس کے گرد واقع وہ علاقہ ہے جو سورج سے خارج ہونے والے مقناطیسی ذرات کو سیارے کی سطح پر اثرانداز ہونے سے روکتا ہے ۔ ہماری زمین سمیت تمام سیاروں کے بھی مقناطیسی دائرے ہیں مگر ان کی قوت عطارد کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

عطارد کے مقناطیسی میدان کے زیادہ طاقت ور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں زمین کے مقابلے میں تقریباً دگنی مقدار میں لوہا معدنی شکل میں موجود ہے۔ سائنس دانوں کایہ بھی خیال ہے کہ سیارے کے قطبی علاقوں میں واقع تاریک گڑھوں میں ممکنہ طورپر برف بھی موجود ہے۔ انہیں توقع ہے کہ خلائی جہاز میسنجر کے ذریعے حاصل کردہ معلومات اس پراسرار سیارے کی گتھیاں سلجانے میں مدد دیں گی اورآنے والے دنوں میں بہت سے رازوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔

خلائی جہاز میسنجر کا مشن ایک سال تک جاری رہے گا۔ اس دوران وہ زمینی مرکز پر 75 ہزار سے زیادہ تصاویر بھیجے گا جن کی مدد سے اس سیارے کا نقشہ مرتب کرنے میں مدد ملے گی ۔

اپریل سے میسنجر اپنے خصوصی آلات کے ذریعے عطارد کی پیمائش اور اس کی سطح کا نقشہ بنانے کاکام شروع کردے گا۔

XS
SM
MD
LG