رسائی کے لنکس

پاکستان: انتہائی سخت سیکورٹی کے ساتھ محرم کا آغاز


پاکستان میں محرم کے آغاز کے ساتھ ہی روایتی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔ کراچی میں بھی دیگر شہروں کی طرح سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے فوج کی طلبی کے لئے وفاق سے رجوع کیا ہے۔

پاکستان میں محرم کے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے ۔ بُدھ کے روز کراچی بھر کی تمام امام بارگاہوں میں مجالس منعقد کی گئیں۔ ان مجالس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ موجودہ حالات کے تناظر میں سیکورٹی کے نہایت سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ امام بارگاہوں کے اطراف آنے جانے والے تمام افراد پر نظر رکھی جارہی ہے جبکہ حکومت ِسندھ نے وفاق سے 9اور 10محرم کو فوج تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔

سیکورٹی پلان کے مطابق صوبہ ِسندھ کے تمام اہم اور حساس شہروں میں فوج تعینات کئے جانے کا امکان ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ ِداخلہ سندھ کی جانب سے وزارت ِدفاع اور وزارت ِداخلہ کو اس سلسلے میں باقاعدہ تحریری درخواست ارسال کردی گئی ہے۔

پولیس اور انتظامیہ کے مرتب کردہ سیکورٹی پلان کے تحت ہی حکومت ِسندھ نے صوبے میں 9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ فوج کو ’کوئیک رسپانس فورس‘ کے طور پر الرٹ رکھا جائے گا یعنی ضرورت پڑتے ہی فوج اپنی ذمے داریاں سنبھال لے گی۔

ایک ہزار ستاسی جلوس
کراچی میں محرم کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار ستاسی جلوس نکالے جائیں گے۔ اس دوران سات ہزار مقامات پر مجالس اور وعظ کا انعقاد کیا جائے گا۔ نو سو اٹھارہ مجالس اور163 جلوسوں کو سیکورٹی حکام نے سب سے زیادہ حساس قرار دیا ہے۔

سیکورٹی کے بہتر انتظامات کی غرض سے ہی کراچی کو تین زونز ایسٹ، ویسٹ اور ساؤتھ زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کچھ مقامات کو انتہائی حساس، کچھ کو حساس اور کچھ کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے نزدیک ایسٹ زون شہر کا سب سے حساس علاقہ ہے۔
XS
SM
MD
LG