رسائی کے لنکس

نشور واحدی اردو غزل کی منفرد آ وا ز


نشور واحدی اردو غزل کی منفرد آ وا ز

نشور واحدی اردو غزل کی منفرد آ وا ز

غزل کے منفرد لب و لہجے کے شاعر نشور واحدی کی پیدائش اتر پردیش کے ضلع بلیا کے ایک گاﺅں بیلتھرا روڈ میں 15 اپریل سنہ 1912میں ہوئی تھی۔ ان کا پیدائشی نام حفیظ الرحمن تھا اور وہ خانقاہی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔

نشور واحدی تعلیم کے لئے سنہ 1930میں کانپور آئے تھے اور پھر وہیں درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ وہ 52 برسوں تک کپڑے کی ملوں کے اس شہر میں رہے اور درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہوئے۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو غزل کے گیسوﺅں کو سنوارا اور ان کو ایک نئی تابندگی بخشی۔ نشور ہر لحاظ سے منفرد لب ولہجے کے شاعر ہیں اور اس کا اعتراف متعدد ناقدین نے کیا جن میں آل احمد سرور اور شس الرحمن فاروقی بھی شامل ہیں۔

دراصل نشور صاحب بات میں بات پیدا کر دیتے ہیں اور ان کی غزل نہ صرف کانوں کو بھلی لگتی ہے بلکہ وہ دل میں سیدھی اتر جاتی ہے۔ جیسا کہ آ ل احمد سرور فرماتے ہیں:

” نشور ان شاعروں میں سے ہیں جو شاعری کے حقیقی حسن سے واقف ہیں اور جن کی غزلوں اور نظموں میں اس دور کے درد و داغ کو حسن کارانہ انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ نشور کے کلام میں چیخ و پکا ر نہیں ہے، اشارہ ہے، تبصرہ نہیں ہے، نہ وہ غم ہے جو مایوسی کے سمندر میں غرق کر دے نہ سستی رجائیت ہے جو رومانیت کی پروردہ ہو تی ہے۔ ان کے یہاں تیز روشنی یا گہرے اندھیرے کا بھی احساس نہیںہو تا۔ ان کی شاعری ایک جذبہ شفق رنگ ہے جس میں روشنی اندھیرے سے گلے ملتی ہے۔ ایک رنگ دوسرے رنگ سے لپٹا ہوا ہے۔ فضا میں نغمے بکھر رہے ہیں اور ہم ایک سرخوشی کے عالم میں ڈوبے جار ہے ہیں“۔


آل احمد سرور کا تبصرہ نشور کی پوری شاعری کا احاطہ کر لیتا ہے کیونکہ یہ کیفیت ا ن کے پورے کلام میں جاری و ساری ہے ۔


دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے
چلے آﺅ جہاں تک روشنی معلو م ہو تی ہے
گل رنگیں یہ کہتا ہے کہ کھلنا حسن کھونا ہے
مگر غنچہ سمجھتا ہے نکھرتا جا رہا ہوں میں
غیر میرا حال غم، پوچھتے رہے مگر
دوستوں کی بات ہے دشمنوں سے کیا کہوں


نشور نے 13سال کی عمر سے شاعری شروع کی تھی اور ان کے نصف درجن شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں صہبائے ہند ، شور نشور ، آتش و نم، فروغ جام، سواد منزل اور گلفشانی گفتار شامل ہیں۔

ان کے انتقال کے بعد بچی ہوئی چیزوں کو اشک چکاں سے عصر رواں تک کے عنوان سے شائع کیا گیا تھا اور حال ہی میں ان کا شعری انتخاب ” سواد منزل “ کے عنوان سے شائع ہو ا ہے۔

نشور واحدی کا انتقال کانپور میں چار جنوری 1983کو ہوا تھا ان کے انتقال کے بعد ہی سے کانپور میں قائم شدہ بزم نشور ہر سال ان کی یاد میں جلسے کا انعقاد کرتی ہے اس کے علاوہ ان کے پرستاران نے پاکستان کے کراچی میں بھی بزم نشور قائم کی تھی اور اس کے جلسے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

نشور کی غزل کے کچھ منتخب اشعار:


ان سرمگیں آنکھوں میں، آنسو پس مژگاں ہیں
کچھ دور اندھیرا ہے، کچھ دور چراغاں ہیں
رنگ کلی کا اڑ چلے، گل کا خمار چھوٹ جائے
وہ جو چمن فروش ہوں، لفظ بہار چھوٹ جائے

اک دامن رنگیں لہرا یا مستی سی فضا میں چھا ہی گئی
جب سیر چمن کو وہ نکلے پھولوں کی جبیں شرما ہی گئی
پھینکے ہوئے شیشوں سے دل کتنے بنائے ہیں
جب جام کوئی ٹوٹا دیوانوں کے کام آیا
پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے
معصوم ہے کیا جانے دامن کہیں جلتا ہے
جو حدود صبح میں رک گیا اسے اتفاق سحر کہو
میں وہی مسافر شام ہوں مرے راستے میں سحر پڑی
حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے
کوئی پردے میں ہوتا ہے تو چلمن جگمگاتی ہے


قصہ مختصر یہ کہ غزل میں جب بھی نازک خیالی کا ذکر آئے گا تو نشور واحدی کا نام نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

XS
SM
MD
LG