رسائی کے لنکس

نواز شریف اور عمران خان کے درمیان ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکراتی عمل کی ناکامی کی صورت میں متبادل لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت تحریک انصاف کے رہنما عمران خان سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکراتی عمل کی ناکامی کی صورت میں متبادل لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عمران خان نے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے ڈائیلاگ کے ذریعے دہشت گرد کو تقسیم کر دیا جو اُن کے بقول حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

’’اب واضح ہو گیا ہے کہ چھوٹے سے گروپ ہیں کہ وہ ڈائیلاگ نہیں کرنا چاہتے، جو بھی ہو جائے اُنھوں نے لڑنا ہے۔ یہ جو تقسیم ہوئی ہے یہ ایک بڑی خوش آئند چیز ہے یہ کامیابی ہے۔‘‘

تحریک انصاف کے چیئرمین نے بتایا کہ وزیراعظم نے اُنھیں آگاہ کیا ہے کہ مذاکرات کا لائحہ عمل وضع کر لیا گیا ہے۔

’’جو آج اُنھوں نے ہمیں کہا ہے کہ وہ اس چیز پر فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ ایک اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ ہوگا اور اُنھوں نے اس کا ایک طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔‘‘

عمران خان کے بقول وزیراعظم نے اُنھیں بتایا ہے کہ تمام ادارے بشمول فوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کا قیام سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس کے لیے قوم اور سیاسی قیادت میں ہم آہنگی ہونی چاہیئے۔

’’میری کوشش ہے کہ اب خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر پاکستان میں امن قائم ہو جائے۔‘‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’اب ہم مذاکرات کے مذاکرات کے نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں اس لیے ہمیں پہلے سے بھی زیادہ اتفاق اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔‘‘

ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور نواز شریف کے معاون خصوصی برائے قومی اُمور عرفان صدیقی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بنی گالا میں ہونے والی اس ملاقات میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلٰی پرویز خٹک سمیت عمران خان کی جماعت کے دیگر سینیئر رہنماء بھی موجود تھے۔

ملاقات میں عمران خان کو اب تک طالبان سے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا جب کہ وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے صوبے کے حالات پر بھی بریفنگ دی۔
عمران خان کی جماعت صوبہ خیبرپختونخواہ میں برسراقتدار ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار یہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے با اختیار اعلٰی سطحی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ تاہم تاحال اس مجوزہ کمیٹی کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان ’ٹی ٹی پی‘ نے حال ہی میں حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی بعض علاقوں خصوصاً اسلام آباد میں دہشت گرد حملے کر چکے ہیں۔

اگرچہ ’ٹی ٹی پی‘ نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا لیکن غیر معروف شدت پسند گروہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ماضی میں طالبان کی مرکزی تنظیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔

اُدھر بدھ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود اُن کے ساتھیوں کی گرفتاریاں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر اس دعوے پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا گیا لیکن ماضی میں حکام طالبان کے ایسے دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG