رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے جاری کردہ بیان میں تھامس نائیڈز کے دورہ پاکستان کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں جلد بہتری آ ئے گی

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ تھامس نائیڈز نے بدھ کو پاکستان کاایک زورہ دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے پاکستانی صدرآصف علی زرداری ، وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی اوروزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقاتیں کیں ۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ جمعرات کوپاکستان کی خارجہ پالیسی سازی کے حوالے سے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہونے والا ہے ،یہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پراتفاق رائے قائم ہونے کا امکان ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے بدھ کو وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاک امریکہ وفود کی سطح کے مذاکرات میں حصہ لیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور بعدا زاں وہ لاہور میں صدر آصف علی زرداری سے بھی ملے جس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے علاوہ پاکستان میں تعینات امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر شیری رحمن اور گورنر پنجاب لطیف کھوسہ بھی موجود تھے۔

تھامس نائیڈز اور صدر زرداری نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ووبارہ معمول کی ڈگر پر لانے کی خواہش کا اظہار اور اعتماد کی بحالی پر زور دیا۔ صدر زرداری کی جانب سے ڈرون حملوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اسے دہشت گردی میں اضافے کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ۔

ادھر امریکی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستانی پارلیمنٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اوروہ پارلیمانی کمیٹی کی حتمی سفارشات پر فیصلے کا منتظر ہے۔اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے جاری کردہ بیان میں تھامس نائیڈز کے دورہ پاکستان کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں جلد بہتری آ ئے گی۔

دوسری جانب پانچ روز قبل امریکی سفیر کیمرون منٹر اور برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقاتوں کے بعد بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے بھی نواز شریف کو فون کیا اور درخواست کی کہ جمعرات کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جائے اور بائیکاٹ ختم کیا جائے جس پر نواز شریف نے مثبت جواب دیا۔

واضح رہے کہ پاک امریکا تعلقات ، نیٹو سپلائی کی بحالی اور خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی اپنی ترمیمی سفارشات کو مسلم لیگ ن کے بائیکاٹ کی وجہ سے حتمی شکل نہیں دے سکی۔ن لیگ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم ، نواز شریف رابطے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ جمعرات کو دو بجے ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے اراکین شرکت کریں گے اورپانچ بجے ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ترمیمی سفارشات پیش کی جا سکتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی میں تین متنازع شقوں میں سے دو پر اتفاق ہوگیا۔جن شقوں پر اتفاق ہوا ہے ان کے مطابق پاکستان ہوائی اڈے کسی دوسرے ملک کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گااور غیرملکی سیکورٹی ایجنسی کو ملک میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں نیٹو سپلائی کی بحالی سے متعلق کمیٹی کے اراکین کے درمیان اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن کی دوسری جماعت جے یو آئی کا نیٹو سپلائی سے متعلق شق پر ابھی بھی سخت موقف سامنے آ رہا ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی مشروط ہو یا غیر مشروط ہر فورم پر مخالفت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG