رسائی کے لنکس

شمالی کوریا: انٹرنیٹ نظام 'جزوی طور پر بحال'


فائل

فائل

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے صحافیوں کے رابطہ کرنے پر شمالی کوریا کے انٹرنیٹ نظام میں آنے والے تعطل کی خبروں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

شمالی کوریا میں انٹرنیٹ کا نظام تقریباً نو گھنٹے تک معطل رہنے کے بعد منگل کو جزوی طور پر بحال ہو گیا۔

انٹرنیٹ کے اس بڑے پیمانے پر تعطل کی وجہ سے اس کمیونسٹ ملک کا دنیا کے ساتھ آن لائن رابطہ کٹ کر رہ گیا تھا۔ اس کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا ہے لیکن مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ تعطل کسی سائبر حملے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

شمالی کوریا کے انٹرنیٹ نظام میں آنے والے اس تعطل سے چند روز قبل ہی امریکہ کے صدر براک اوباما نے خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کی جانب سے امریکی فلم اسٹوڈیو 'سونی پکچرز' پر کیے جانے والے مبینہ سائبر حملے کا بدلہ لینے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے صحافیوں کے رابطہ کرنے پر شمالی کوریا کے انٹرنیٹ نظام میں آنے والے تعطل کی خبروں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ امریکی حکومت 'سونی پکچرز' پر ہونے والے سائبر حملوں کے جواب میں کئی اقدامات پر غور کر رہی ہے جن میں سے بعض، ترجمان کے بقول، "نظر آئیں گے اور بعض عوام کی نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں۔"

شمالی کوریا کی حکومت گزشتہ ماہ کیے جانے والے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرچکی ہے اور پیر کو پیانگ یانگ کی کمیونسٹ حکومت نے امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے اپنے الزامات واپس نہ لیے تو اسے "جوابی حملوں" کا نشانہ بنایا جائے گا۔

سائبر حملے کے نتیجے میں 'سونی' کے 47 ہزار ملازمین اور اہم شخصیات کی نجی تفصیلات، ای میلز اور اسٹوڈیوز کی مستقبل میں آنے والی فلموں کی معلومات انٹرنیٹ پر جاری ہو گئی تھیں۔

ہیکرز نے فلم اسٹوڈیو کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے اپنی مزاحیہ فلم 'دی انٹرویو' کی نمائش منسوخ نہ کی تو نہ صرف اس پر مزید حملے کیے جائیں گے بلکہ فلم دکھانے والے سنیما گھروں اور فلم بینوں کو بھی 'گیارہ ستمبر 2001ء' کی طرز کے حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

مذکورہ فلم شمالی کوریا کی کمیونسٹ حکومت کے سربراہ کم جونگ ان کے قتل کی سازش پر بنائی گئی ہے جس پر عمل درآمد کے لیے 'سی آئی اے' دو صحافیوں کی خدمات حاصل کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG