رسائی کے لنکس

شہرہٴ آفاق براڈکاسٹر، عبداللہ جان مغموم رخصت ہوگئے


مرحوم کے پرستاروں کا کہنا ہے کہ کوئی شک نہیں اُن کے انتقال سے ایک عہد اختتام پذیر ہوگیا۔ لیکن، اُن کی آواز اور شخصیت کا جادو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ ایک ولولہ عطا کرتا رہے گا

سنہ 1947 میں برصغیر پاک و ہند کے اندر مسلمانوں کے اکثریتی حصے، یعنی موجودہ پاکستان میں، اُس وقت کے آل انڈیا ریڈیو، پشاور اسٹیشن سے سب سے پہلے پاکستان بننے کا اعلان کرنے والے شہرہٴ آفاق براڈکاسٹر ، عبد اللہ جان مغموم چھ ستمبر کو اِس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اُن کی عمر تقریباً 85 برس تھی۔

اپنے زمانے میں اپنی خوبصورت آواز ، منفرد لہجے اور پُرکشش اسٹائل کی وجہ سے وہ ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول تھے۔

عبد اللہ جان مغموم نہ صرف ایک نہایت مقبول براڈکاسٹر بلکہ ڈرامہ نگار، شاعر اور اداکار بھی تھے۔

اُن کا شمار اُن چند شخصیات میں ہوتا ہے جِنھوں نے ریڈیو پاکستان پر پشتو زبان کی باقاعدہ آبیاری کی۔

ایسے وقت میں جب ایک علیحدہ وطن کے لیے مسلمانوں کی کوششیں عروج پر تھیں، اُن کی آواز ریڈیو پر علاقے کے مسلمانوں کے لیے گویا مہمیز کا کام دیتی رہی۔
عبد اللہ جان مغموم 1928ء میں پاکستان کے صوبہٴ خیبر پختونخواہ کے ایک گاؤں دارمنگی میں پیدا ہوئے۔ اُن کا تعلق ایک مذہبی اور تعلیم یافتہ خاندان سے تھا۔ آپ کے والد، حافظِ قرآن عبد الرؤف ایک ممتاز مذہبی اسکالر کے علاوہ، اُس وقت کی واحد برٹش فوڈ فیکٹری کے مالک تھے۔

عبد اللہ جان مغموم نے بالکل نوجوانی میں براڈکاسٹنگ کا پیشہ اختیار کیا اور عشروں تک اس سے وابستہ رہے۔ اپنے شوق کی بناٴ پر ہائی اسکول ختم کرنے کے فوراً بعد، وہ آل انڈیا ریڈیو کے اسٹوڈیو کلب میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور بہت جلد نہ صرف ایک اسکرپٹ رائٹر اور براڈکاسٹر کے طور پر جانے پہچانے جانے لگے، بلکہ اپنے ہی لکھے گئے مختلف ڈراموں میں اُنھوں نے خود بھی بطور صداکار کام کیا۔ اُنھیں سب سے زیادہ شہرت ’حُجرہ‘ نامی شو کی وجہ سے ملی، جو تقریباً 31برس تک ہر روز ریڈیو پاکستان سے براڈکاسٹ ہوتا رہا۔

پاکستان بننے کے بعد بظاہر، کشیدہ تعلقات کے پسِ منظر میں وہ اپنے پروگرام میںٕ ہمسایہ ممالک کے مختلف رہنماؤں کو ایک خاص انداز کے ساتھ طنز و مزاح کا نشانہ بناتے رہے۔ اِس پروگرام کا آغاز وہ اپنے ایک مخصوص انداز میں لگائے گئے زوردار قہقہے سے کرتے تھے۔

سنہ 1947میں 18سال کی عمر میں وہ رشتہٴ ازدواج میں بندھ گئے۔ آپ کی شریکِ حیات، رابعہ ممتاز بھی ایک مشہور براڈکاسٹر اور پشتوزبان کی شاعرہ تھیں، جنِھوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ اُن کی آخری کتاب نومبر 2012ء میں وفات سے تقریباً ایک سال قبل شائع ہوئی جِس میں وہ اپنے شہید بیٹے کرنل ضیاٴ الدین سے شاعری کے انداز میں مخاطب ہیں۔ کتاب کا نام ہے ’گُل شَو پاڑہ پاڑہ‘۔

ریڈیو پاکستان کے لیے عبد اللہ جان مغموم کی خدمات پانچ دہائیوں (1940-1990) پر محیط ہیں۔ اُنھیں اُن کی خدمات کے اعتراف میں جِن اعزازات سے نوازا گیا اُن میں’ تمغہٴ امتیاز‘ شامل ہے۔

پشتو زبان کے شہرہٴ آفاق براڈکاسٹر کی وفات پر مختلف شخصیات نے اُنھیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

عبد اللہ جان مغموم کے ایک سابق رفیقِ کار، ارباب ہدایت اللہ، جو خود اپنے وقت کے مشہور براڈکاسٹر رہ چکے ہیں، اُن کی خداداد صلاحیتوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ، ’اللہ تعالیٰ نے عبد اللہ جان مغموم کو گویا مائکروفون کے لیے بنایا تھا‘۔

اُن کے ایک اور ساتھی براڈکاسٹر، مختار خلیل کہتے ہیں کہ تخلص تو اُن کا مغموم تھا، لیکن اُن کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ بکھری ہوتی تھی۔

امریکہ میں مقیم عبد اللہ جان مغموم کی ایک نواسی اُن کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اُن کی قربت میں اُنھیں بھی وقت گزارنے کا موقع ملا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ایک واقعے کا اکثر ذکر کرتے تھے کہ 1947ء میں پاکستان بننے کا اعلان کرتے وقت وہ اتنے جذباتی ہوگئے تھے کہ وہ اعلان کے فوراً بعد جب اسٹوڈیو سے باہر آئے تو اُنھوں نے ہر ایک کو حب الوطنی کے جذبات سے مغلوب پایا، جو ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے اور مبارکبادیں دے رہے تھے۔یہ دراصل، اُن کی خوبصورت اور پُر کشش آواز کا سحر تھا۔

اُن کی نواسی کہتی ہیں کہ اِس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی پلکوں پر اکثر آنسو تیرنے لگتے تھے جو وطن کی مٹی سے پیار اور اُن کی جذباتی وابستگی کا گویا ایک بے ساختہ اظہار تھا۔

اِس میں شک نہیں کہ عبد اللہ جان مغموم کے انتقال سے ایک عہد اختتام پذیر ہوگیا۔ لیکن، اُن کی آواز اور شخصیت کا جادو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ ایک ولولہ عطا کرتا رہے گا۔

اُن کے انتقال پر پشاور میں اُن کے ایک پرستار نے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرچہ افسانوی شخصیت کے حامل براڈکاسٹر، شاعر اور اداکار عبد اللہ جان مغموم اب ہم میں نہیں، لیکن اُن کے کارناموں کی بازگشت برسوں سنائی دیتی رہے گی۔

حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔
XS
SM
MD
LG