رسائی کے لنکس

صدر أوباما آٹھ سال وائٹ ہاؤس میں گذارنے کے بعد جمعے کو رخصت ہو رہے ہیں جب کہ دوپہر کے وقت کیپیٹل ہل میں ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

امریکی صدر براک أوباما آج بدھ کے روز صدر کی حیثیت سے اپنی آخری نیوز کانفرنس کر رہے ہیں، جس دوران انہیں منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں سوالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان سے فوجی انٹیلی جینس تجزیہ کار کی سزا میں حیران کن تخفيف کے بارے میں بھی پوچھا جاسکتا ہےجس نے فوجی دستاویزات افشا کی تھیں۔

صدر أوباما آٹھ سال وائٹ ہاؤس میں گذارنے کے بعد جمعے کو رخصت ہو رہے ہیں جب کہ دوپہر کے وقت کیپیٹل ہل میں ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے مسٹر أوباما انتخابی مہم کے دوران جائیدادوں کی خرید و فروخت سے منسلک ارب پتی شخصیت ٹرمپ تنقید کرتے رہے ہیں ، لیکن انتخابات کے بعد انہوں نے ٹرمپ سے متعدد موقعوں پر ملاقاتیں کیں اور اقتدار کی منتقلی کا عمل پرامن طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔

لیکن جیسے جیسے ٹرمپ کی صدرات کا وقت قریب آ رہا ہے دونوں راہنماؤں کے درمیان بدستور تناؤ اور کشیدگی برقرار ہے، خاص طور پر مسٹر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ وہ صحت کی دیکھ بھال کا پروگرام أوباما کیئر ختم کر دیں گے اور کانگریس نے اس سلسلے میں قانون سازی کی منظوری بھی دے دی ہے۔

مسٹر أوباما اس وقت 55 سال کے ہیں اور وہ بہت سے امریکی صدور سے کم عمر ہیں، اگر اس کا موازنہ وہائٹ ہاؤس چھوڑنے کی عمر سے کیا جائے۔

صدرات کے بعد کے اپنے منصوبوں کے بارے میں وہ واضح نہیں ہیں۔ یہ امکان موجود ہیں کہ وہ اپنی یاداشتیں قلم بند کریں گے اور سیاسی سطح پر اپنی پارٹی کی مدد کریں گے۔

صدر أوباما فرصت کے وقت میں اکثر أوقات گولف بھی کھیلتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG