رسائی کے لنکس

وفاقی بجٹ تجاویز، پیر کو اوباما کا ترقیاتی منصوبہ متوقع


فائل

فائل

مختص امریکی رقوم کی تجاویز سے متعلق یہ وزنی دستاویز دراصل ایک طویل مباحثے کو جنم دے گا، جس سے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر اور ریپبلیکن اکثریت والے کانگریس کے درمیان سوچ کی واضح تقسیم کھل کر سامنے آئے گی

صدر براک اوباما پیر کے روز 2016ء کے وفاقی بجٹ تجاویز پیش کرنے والے ہیں، جو امریکی حکومت کی طرف سے آئندہ اخراجات کا ایک خاکہ ہوگا۔

مختص امریکی رقوم کی تجاویز سے متعلق یہ وزنی دستاویز دراصل ایک طویل مباحثے کو جنم دے گا، جس سے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر اور ریپبلیکن اکثریت والے کانگریس کے درمیان سوچ کی واضح تقسیم کھل کر سامنے آئے گی۔

سب سے پہلے کچھ اچھی خبریں: صدر اوباما کے مطابق،حالیہ برسوں کے مقابلے میں، وفاقی خسارے میں 50 فی صد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ امریکہ کی بہتر مالیاتی صورت حال سے اس بات کی گنجائش نکلتی ہے کہ داخلی ضروریات پر دھیان مرکوز رکھا جائے، جنھیں حالیہ برسوں میں پورا نہیں کیا گیا۔

بقول اُن کے، ’اولاً، متوسط طبقے کی معیشت کا مطلب مستقل تبدیل ہوتی ہوئی دنیا کے اعتبار سے یہ ہے کہ ملازمت پیشہ خاندانوں کو تحفظ کا احساس دلایا جائے؛ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بچوں کی دیکھ بھال، کالج، صحت عامہ کی دیکھ بھال، گھر، رئٹائرمنٹ اور اِن معاملات کے لیے ذاتی آمدن میں کیا گنجائش نکلتی ہے، ملازم پیشہ خاندوں کے ٹیکس میں کمی لانا اور ہر سال اُن کی جیبوں میں ہزاروں ڈالر کی واپسی۔‘

توقع ہے کہ صدر کےبجٹ میں اخراجات میں مساوی کمی کے ازخود لاگو ہونے والے عمل کو منسوخ کیا جائے، جو امریکی فوجی تیاری سے لے کر ایبولا جیسے صحت کے بحرانوں کا جواب دینے کے ہر معاملے پر اثرانداز ہوتا ہے۔

تاہم، مالی صورت حال ہر لحاظ سے خوش کُن منظر پیش نہیں کرتی۔ تھوڑا ہی خسارہ سہی، لیکن اِس سے ملک کا 18 ٹرلین ڈالر کا قومی قرضہ مزید بڑھے گا، جس حقیقت کے بارے میں ریپبلیکن قانون ساز کہتے ہیں کہ اوباما کے بجٹ کو ’آتے ہی مسترد کیا جائے گا‘۔ سینیٹر جان کارنین اُن قانون سازوں میں سے ہیں جنھیں ملکی قرضہ جات پر پریشانی لاحق ہے۔

کارنین کے بقول، ’مجھے تشویش ہے کہ بجٹ میں مزید ٹیکس، زیادہ اخراجات، اور زیادہ قرضے کا بوجھ عائد کیا جائے گا۔ اور یقینی طور پر، ہرگز یہ ملک کو ترقی دلانے کی مستحکم راہ نہیں۔ ہم اب بھی وہ رقوم خرچ کر رہے ہیں، جو ہمارے پاس موجود نہیں ہیں‘۔

کانگریس کمیٹیاں اخراجاتی مد میں ایسی تجاویز وضع کریں گی جن سے ریبپلیکن ترجیحات کی غمازی ہوتی ہو، یہ داخلی اخراجات میں کمی لانے کی کوشش ہوگی جب کہ معاشی سرگرمی کو مزید فروغ دینے کے لیے محصول میں ترغیبات کی فراہمی متوقع ہے۔

تاہم، ایک غیرجانبدار سینیٹر، برنی سینڈرز کے مطابق، مالی عدم توازن سے متعلق اُن کی تشویش حالیہ تاریخ کو خاطر میں نہیں لاتی، جب ریپبلیکن دور میں خسارہ اور قرضہ جات تیزی سے بڑھے تھے۔

XS
SM
MD
LG