رسائی کے لنکس

اپوزیشن اتحاد نے رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ نامزد کردیا


فائل

فائل

ایوانِ بالا میں ایم کیو ایم کی آٹھ، اے این پی کے سات اور مسلم لیگ (ق) کی چار نشستیں ہیں جن کے اتحاد کے بعد پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 46 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی کو چیئرمین کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔

پیر کی شب اسلام آباد میں اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا کہ سینیٹ کی ڈپٹی چیئرمین شپ پر نامزدگی کا فیصلہ صوبے سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز خود کریں گے۔

پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کی جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما کامل علی آغا نے بھی صحافیوں سے گفتگو کی۔

سینیٹر رضا ربانی کو چیئرمین نامزد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسفند یار ولی خان نے کہا کہ یہ فیصلہ اجلاس میں شریک حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر کیا ہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بھی مشاورت کی ہے جو اپنی جماعت سے مشورے کے بعد منگل کو اپنے فیصلے کا اعلان کریں گے۔

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے ایوانِ بالا میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کےا تحاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ قانون سازی کے موقع پر بھی یہ اتحاد قائم رہنا چاہیے۔

ق لیگ کے رہنما کامل علی آغا نے کہا کہ رضا ربانی کی نامزدگی پر اجلاس میں شریک تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے اور امید ہے کہ ڈپٹی چیئرمین بھی اتفاقِ رائے سے نامزد کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران سینیٹر رضا ربانی نے اپنی نامزدگی پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام اتحادیوں کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

گزشتہ ہفتے 104 رکنی سینیٹ کی نصف نشستوں پر ہونے والے انتخاب کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ ایوان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جب کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) کے پاس ایوان میں 26 نشستیں ہیں۔

ایوانِ بالا میں متحدہ قومی موومنٹ کی آٹھ، عوامی نیشنل پارٹی کے سات اور مسلم لیگ (ق) کی چار نشستیں ہیں جن کے اتحاد کے بعد پی پی پی کے امیدوار کو 46 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

پیر کی شب پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسفند یار ولی نے دعویٰ کیا کہ انہیں قبائلی علاقہ جات سے منتخب تین سینیٹرز کی بھی حمایت حاصل ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینیٹ انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد گزشتہ تین روز سے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں اور اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حکمران جماعت نواز لیگ کے سربراہ اور وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے بھی سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کےانتخاب پر مشاورت کے لیے تمام پارلیمانی جماعتوں رہنماو ٔں کو منگل کو ظہرانے پر مدعو کر رکھا ہے۔

سینیٹ کی چھ نشستیں جیت کر ایوان میں پہلی بار نمائندگی حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اعلان کرچکے ہیں کہ وہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔

XS
SM
MD
LG