رسائی کے لنکس

پیپلز امن کمیٹی پر لیاری گینگ وار میں ملوث ہونے، شہر کا امن خراب کرنے اور سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے دفاتر تعمیر کرنے کے الزامات ہیں ۔ ان دفاتر کو اینٹی انکروچمنٹ سیل کی ہدایات پر سخت سیکورٹی میں بھاری مشینری کی مدد سے توڑا جارہا ہے۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے بعد گزشتہ سالوں میں کالعدم قرار دی گئی پیپلز امن کمیٹی کے دفاتر کو بھی مسمار کئے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں قائم پانچ دفاتر منہدم کئے جاچکے ہیں ۔

ان میں لیاری کے اطرافی علاقے بغدادی ، چاکیواڑہ ، کلاکوٹ جبکہ ملیر اور پرانا گولیمار شامل ہیں۔

پیپلز امن کمیٹی پر لیاری گینگ وار میں ملوث ہونے، شہر کا امن خراب کرنے اور سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے دفاتر تعمیر کرنے کے الزامات ہیں ۔ ان دفاتر کو اینٹی انکروچمنٹ سیل کی ہدایات پر سخت سیکورٹی میں بھاری مشینری کی مدد سے توڑا جارہا ہے۔

اینٹی انکروچمنٹ سیل سے وابستہ عہدیداروں نے اپنا نام بتائے بغیر کہا کہ سیل کی جانب سے اس حوالے سے پہلے ایک سروے کیا گیاتھا جس میں واضح ہوا کہ کراچی کی کئی سیاسی جماعتوں نے شہر میں جگہ جگہ سرکاری اراضی پر اپنے دفاتر بنائے ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر غیرقانونی طریقے سے اور زمین پر قبضہ کرکے بنائے گئے ۔ یہ تمام دفاتر مسمار کردیئے جائیں گے ۔

اب تک مسمار کرائے جانے والے دفاتر میں پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر جان بلوچ کا ایک فارم ہاؤس بھی شامل ہے۔

اینٹی انکروچمنٹ سیل کے مطابق جن علاقوں میں پیپلز امن کمیٹی کے غیر قانونی دفاتر واقع ہیں ان میں ، یوسف گوٹھ ،ملیر، پراناگولیمار ، لیاری، الفلاح روڈ، سنگولین، سربازی محلہ، سید آباد، علی محمد محلہ، یوسف گوٹھ، ملیر، پرانا گولیمار، مواچھ گوٹھ، گلبہار، الیاس گوٹھ اور شرافی گوٹھ شامل ہیں۔

دیگر سیاسی جماعتوں کے غیر قانونی دفاتر
پولیس کی اسپیشل برانچ کی ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری اراضی پر قبضے کرکے دفاتر بنانے میں کئی جماعتیں شامل ہیں ۔ ان جماعتوں نے جن علاقوں میں غیر قانونی دفاتر قائم کئے ہوئے ہیں ان میں ابراہیم حیدری، اورنگی ٹاؤ ن، موانچھ گوٹھ، ماری پور، نیلم کالونی، شیریں جناح کالونی ، گلشن حدید، پیپری، بن قاسم، گڈاپ ،سپر ہائی وے، ایوب گوٹھ ،نیو کراچی، سرجانی ٹاؤن، منگھوپیر ،سلطان آباد، مدینہ کالونی گلستان جوہر ، کورنگی لنڈی کوتل ، شاہ فیصل کالونی، معین آباد، ماڈل کالونی، گلشن اقبال ، پٹیل پاڑہ، گارڈ ن ایسٹ ، ریلوے کالونی ،کھوکھرا پار، ملیر، سعود آباد، شانتی نگرشامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ان دفاتر کی تعداد 167 ہے ۔

ایم کیو ایم کے مسمار دفاتر کی تعداد 150ہوگئی
ادھر ایم کیوایم کے اب تک 150سے زائد دفاتر کو مسمار کیاجاچکا ہے۔ ہفتے اور اتوار کو بھی ایم کیو ایم کے گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں قائم تین دفاتر کو گرادیا گیا۔ یہ دفاتر سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے بنائے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG