رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پراتفاق

  • محمداشتیاق

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پراتفاق

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پراتفاق

اس سہ فریقی اجلاس کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ افغانستان کے لیے لندن میں ہونے والی عالمی کانفرنس اور اس خطے کے حوالے دوسرے اہم اجلاسوں سے قبل ایک ایسے موقف پر متفق ہوا جائے جو تینوں ممالک کو قابل قبول ہو

اسلام آباد میں پاکستان ، افغانستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہفتے کے روز مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے گئے جس کے تحت تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

تینوں پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اُن کا مشترکہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مل کر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرور ت ہے ۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ اس سہ فریقی اجلاس کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ افغانستان کے لیے لند ن میں ہونے والی عالمی کانفرنس اور اس خطے کے حوالے دوسرے اہم اجلاسوں سے قبل ایک ایسے موقف پر متفق ہوا جائے جو تینوں ممالک کو قابل قبول ہو۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے اپنے افغان ہم منصب رنگین دادفر سپنتا کو یقین دلایا کہ افغانستان کی تعمیر نو اور امن استحکام کے لیے اُن کے ملک کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت خطے کو جن مسائل کا سامنا ہے اُن کے لیے ایک علاقائی حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اُنھوں نے افغانستان کے لیے امریکی صدر باراک اوباما کی نئی پالیسی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں نئی افغان حکمت عملی کے مثبت پہلو بھی ہیں لیکن ہم اس سے بھی آگاہ ہیں کہ اچھے ارادوں کے باوجود اس کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں اور مشترکہ روابط سے ان اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے افغانستان کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی کے تحت وہاں سے فوجوں کے انخلاء کے مجوزہ فیصلے کو بھی سراہا ۔

افغانستان کے راستے پاکستان میں اسلحے کی سمگلنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں افغانستان کے وزیر خارجہ رنگین دادفر نے کہا کہ اُن کا ملک اس بات کو یقینی بنائے گا کہ افغانستان کی سرزمین پڑوسی ممالک سمیت کسی کے خلاف استعمال نہ کی جائے ۔

تینوں ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اقتصادیات اور امن و امان کی صورت حال کے حوالے سےبھی پاکستان، افغانستان اور ایران کے وزرائے داخلہ ، تجارت کے علاوہ انٹیلی جنس سرابرہوں کی سطح پر بھی مذاکرات کیے جائیں گے۔ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے توانائی، ٹرانسپورٹ، کان کنی اور ماحولیا ت سمیت دیگر شعبوں میں بھی تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔

XS
SM
MD
LG