رسائی کے لنکس

ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرنا ک حد تک بلند

  • شمیم منصوری

ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرنا ک حد تک بلند

ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرنا ک حد تک بلند

امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے امریکی امدادی ٹیموں کے پشاور پہنچنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکہ نے پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے مجموعی طور پر ساڑھے تین کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان بھی کیا ہے جو بین الاقوامی امدادی اور غیر سرکاری تنظیموں کے توسط سے فراہم کی جائے گی۔

ملک کے شمال مغربی حصوں میں پچھلے 24 گھنٹوں میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث پشاور سے تقریباََ 25 کلومیٹر دور ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جبکہ بارش کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا۔

پشاور میں متعلقہ دفتر کے ایک مقامی افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت ڈیم میں ایک لاکھ 70 ہزار کیوسک اضافی پانی جمع ہو چکا ہے اور اردگرد کے قصبوں اور دیہاتوں میں آباد لاکھوں لوگوں کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرنا ک حد تک بلند

ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرنا ک حد تک بلند

پشاور کے قریب ایک امدادی کیمپ کے منتظم کرم الوہاب نے بتایا کہ جو لوگ متاثرہ علاقوں میں صورتحال بہتر ہونے پر گھروں کو لوٹ گئے تھے حالیہ بارشوں کے بعد ایک بار پھر کیمپ میں پہنچ رہے ہیں۔ ان کے بقول ایک روز قبل چھ خاندان کیمپ میں آئے تھے جب کہ اتوار کو چار مزید خاندان یہاں پہنچے ہیں۔

مزید بارشوں کے باعث دیر اورچترال جبکہ مردان اور سوات کے درمیان ٹریفک کا سلسلہ متاثرہو ا ہے اور بمشکل چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے ہی سیلاب سے متاثر ہونے والے ان علاقوں کی طرف سفر ممکن ہے۔

وادی سوات کے کئی علاقوں سے اب تک رابطہ بحال نہ ہونے کے باعث صرف ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہی سیلاب زدگان کو امدادی سامان پہنچانا ممکن ہے۔ ان علاقوں میں خوراک، پینے کے صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے لیکن پچھلے 24 گھنٹوں میں خراب موسم نے ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث جہاں امدادی کارروائیاں متاثر ہو ئی ہیں وہیں اہم سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے کام میں بھی خلل پڑا ہے۔

ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرنا ک حد تک بلند

ورسک ڈیم میں پانی کی سطح خطرنا ک حد تک بلند

اقوام متحدہ کے عہدیدار موریسیو جولیانو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خیبر پختون خوا ہ میں متاثر ہونے والے تقریباً 40 لاکھ افراد کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ٹینٹوں کی ضرورت ہے جو نا پاکستان اور نا ہی ارد گرد کے ممالک میں دستیاب ہیں ۔عہدیدار کے مطابق صوبہ بھر میں لگ بھگ دو لاکھ 60 ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں جس کے باعث کم از کم 20 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سیلاب زدہ علاقوں میں صاف پانی مہیا کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہے تاکہ وبائی امراض پھیلنے کے خطرے سے بچا جا سکے۔

موریسیو جولیانو نے بتایا کہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2005ء میں آئے تباہ کن زلزلہ سے تقریباً 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے جب کہ حالیہ دنوں میں صرف خیبر پختون خواہ اور پنجاب میں سیلاب زدگان کی تعداد 61 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کو سکھر کا دورہ کرتے ہوئے اقوام عالم اور مخیر شخصیات سے ایک بار پھر درخواست کی کہ وہ متاثرین کی امداد کریں کیوں کہ حکومت اپنے طور پر اس ”غیر معمولی“ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کی استعداد نہیں رکھتی ہے۔

سرکاری عہدیداروں کے مطابق ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے اب تک تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جب کہ مرنے والوں کی تعداد لگ بھگ 1,600 ہے۔ سیلاب سے ملک بھر میں چھ لاکھ 50 ہزار سے زائد مکانات یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ سیلاب سے اربوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے جس سے ملک معاشی طور پر کئی برس پیچھے چلا جائے گا۔

سیلاب زدگان کو امداد پہنچانے میں سرگرم سرکاری و بین الاقوامی اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر امدادی اقدامات میں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے امریکی امدادی ٹیموں کے پشاور پہنچنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکہ نے پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے مجموعی طور پر ساڑھے تین کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان بھی کیا ہے جو بین الاقوامی امدادی اور غیر سرکاری تنظیموں کے توسط سے فراہم کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG