رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے مہلک حملے کے علاوہ سیاسی سطح پر بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں ملیں۔

پاکستان میں سال 2012ء میں جہاں دہشت گردی کے مہلک حملے کیے گئے وہیں سیاسی سطح پر بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں ملیں۔

دہشت گردی کے واقعات میں سر فہرست کامرہ ائر بیس، پشاور کا ہوائی اڈہ، کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹر، پشاور کے قریب نیم قبائلی علاقے حسن خیل چیک پوسٹ سے لیویز کے 21 اہلکاروں کا اغواء کے بعد قتل اور بلوچستان میں شیعہ زائرین کی بسوں پر حملے شامل ہیں۔

اس سال قومی امن ایوارڈ یافتہ سوات کی نو عمر طالبہ ملالہ یوسف زئی دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بنی اور شدت پسند وں نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر بھی حملے کیے۔

دہشت گردی کے واقعات کے علاوہ اس سال کئی دیگر دل خراش واقعات بھی پیش آئے اسلام آباد کے قریب ایک نجی فضائی کمپنی کا طیارہ گر کر تباہ ہوا اس حاد ثے میں کوئی مسافر زندہ نہ بچ سکا۔

اسی سال کراچی میں ایک گارمینٹس فیکٹری میں آتشزدگی کا بدترین واقعہ پیش آیا جس میں بچوں اور خواتین سمیت 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستانی فوج کے افسروں، جوانوں اور سویلین سمیت 138 افراد ہلاک ہو گئے۔

سیاچن (فائل فوٹو)

سیاچن (فائل فوٹو)



اس سال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھی کئی اتار چڑھاؤ آئے تقریباً سا ڑھے چار سال بر سر اقتدار رہنے والے سید یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئسں حکام کو خط لکھنے سے متعلق عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں نا اہل قرار دے دیا، جس پر انہیں وزارت عظمی چھوڑنا پڑی اور راجہ پرویز اشرف نئے وزیر اعظم منتخب ہوئے جنہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں سوئس حکام کو خط بجھوا دیا۔


اس سال امریکہ میں اسلام مخالف بننے والی فلم کے خلاف ملک بھر میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے جن کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوئے اور کروڑں روپے کی سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

اس سال بھی ملک میں توانائی کا بحران جاری رہا بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف ملک بھر خصوصاً بنجاب میں پر تشد د ہنگاموں کا سلسلہ جاری رہا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG