رسائی کے لنکس

وزیراعظم کی توجہ سندھ پر، پیپلز پارٹی کی قیادت کا پنجاب میں پڑاؤ


فائل فوٹو

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور ملک کے وزیراعظم نواز شریف نے رواں ماہ صوبہ سندھ کے تین دورے کیے۔

پاکستان میں سیاسی مبصرین اس سال کو 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل تیاری کا سال قرار دے رہے ہیں۔

اس بات کی عکاسی ملک میں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے عوامی رابطوں میں اضافے سے بھی ہوتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور ملک کے وزیراعظم نواز شریف نے رواں ماہ صوبہ سندھ کے تین دورے کیے، اُنھوں نے نو مارچ کو ضلع ٹھٹہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب میں علاقے میں صاف پانی کی فراہمی اور ایک بڑے اسپتال کی تعمیر سمیت دیگر کئی بڑے منصوبوں کے لیے 100 کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کرنے کے اعلانات کیے۔

جب کہ 14 مارچ کو کراچی میں ہندو برادری کے تہوار ہولی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں بھی وزیراعظم نواز شریف نے شرکت کی اور اس برادری کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

رواں ہفتے پیر کو وزیراعظم نے سندھ کے شہر حیدر آباد میں اپنی جماعت کے ورکرز کنونشن سے خطاب میں ایک یونیورسٹی کی تعمیر سمیت دیگر منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے 100 کروڑ روپے سے زائد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

اُدھر پیپلز پارٹی کی قیادت بشمول پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اُن کے والد سابق صدر آصف علی زرداری پنجاب میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

آصف زرداری نے گزشتہ ہفتے ملتان کا دورہ کیا اور اطلاعات کے مطابق رواں ہفتے لاہور میں اُن کے مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے رابطے ہوئے جن میں ممکنہ سیاسی اتحاد پر بات ہوئی۔

لیکن پیپلز پارٹی اور حکمران مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رابطوں میں یہ فرق ہے کہ مرکز میں حکومت میں ہونے کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف جہاں بھی جاتے ہیں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور اُن کے لیے وسائل فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

کیا یہ محض سیاسی اعلانات ہیں یا ان پر عمل درآمد بھی ہو سکے گا، اس بارے میں تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس طرح کے اعلانات کی ماضی میں بھی روایت رہی ہے۔

’’یہ سیاسی اعلانات بھی ہیں اور اُن میں سے (بعض) پر عمل درآمد بھی ہو سکے گا، مرکزی حکومت کے پاس ذرائع ہیں اور وہ ذرائع ظاہر ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے ماضی میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں اور یہ حکومت بھی استعمال کر رہی ہے۔‘‘

صوبہ سندھ میں وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے منصوبوں کے اعلان پر رسول بخش ریئس نے کہا کہ ’’ان اعلانات کا مقصد یہ ہی ہے کہ سندھ میں اپنی موجودگی کو (موثر بنایا جائے) اور اُن لوگوں کو مضبوط کیا جائے جو اُن کے ساتھ کھڑے ہوئے اور یہ تاثر پیدا کریں کہ وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت وہ کام نہیں کر سکی جو مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کر رہی ہے۔‘‘

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ جن بڑے منصوبوں کا اعلان کیا گیا وہ ضروری نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے اسی دورے حکومت میں مکمل ہو سکیں۔

’’دیکھیں اگر یونیورسٹی بنانی ہے تو ایک مہینے میں نہیں بنتی ہے۔۔۔ حیدر آباد یونیورسٹی کے لیے اُنھوں نے 100 کروڑ روپے کا فنڈ بھی رکھا ہے، یہ پیسہ فوری طور پر تو خرچ نہیں ہوتا ہے۔۔۔ یہ چار پانچ سال کا منصوبہ ہے، جب کسی منصوبے کی ابتدا ہو جاتی ہے تو اگر حکومت ختم بھی ہو جائے تو منصوبہ جاری رہتا ہے۔‘‘

پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’پلڈاٹ‘ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو سیاسی طور پر سندھ میں صرف اُسی صورت فائدہ حاصل ہو سکے گا، اگر وہ اُن منصوبوں پر عمل درآمد کروائیں جن کا وہ اعلان کر رہے ہیں۔

’’کیوں کہ اگر وہ صرف اعلانات کریں گے اور اُن پر عمل درآمد نہیں ہو گا تو یہ اُن کے لیے مشکل کا سبب بنے گا۔ اگلے ایک سال میں انتخابات ہونے ہیں۔۔۔ لہذا کوئی وجہ نہیں کہ اس پر کوئی شک کیا جائے کہ یہ محض سیاسی اعلانات ہیں۔۔۔ البتہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان منصوبوں کی وجہ سے وہ آئندہ انتخابات میں فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکز میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سندھ یا دیگر صوبوں میں محض ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات سے آئندہ عام انتخابات میں ووٹروں کی توجہ حاصل نہیں کر سکے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG