رسائی کے لنکس

اسٹریٹیجک مذاکرات کا فائدہ برا ہ راست پاکستانی عوام کو ہوگا

  • ب

مارچ میں واشنگٹن میں ہونے والے پاک امریکہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ

مارچ میں واشنگٹن میں ہونے والے پاک امریکہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ اسٹریٹیجک مذاکرات کے تحت جن شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں زراعت،توانائی،تعلیم،صحت اور سائنس وٹیکنالوجی شامل ہیں جن سے براہ راست فائدہ عوام کو ہوگا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات کا جو سلسلہ جاری ہے وہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے علاوہ پاکستانی عوام کو بھی براہ راست فائدہ پہنچائے گے۔

سرکاری ٹی وی سے انٹرویو میں دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ اسٹریٹیجک مذاکرات کے تحت جن شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں زراعت،توانائی،تعلیم،صحت اور سائنس وٹیکنالوجی شامل ہیں جن سے براہ راست فائدہ عوام کو ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے کے علاوہ حالیہ پاک بھارت مذاکرات پر بھی بات چیت ہوگی جس کے نتائج مبصرین کے مطابق مایوس کن رہے۔

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت پاکستان کے دوست ملک اس بات کے خواہشمند ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر آئیں اور ان کے مطابق اسلام آباد آئندہ بھی اس ضمن میں اپنی مثبت کوششیں جاری رکھے گا کیونکہ یہ نہیں چاہتا کہ بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھے اور تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات ہوں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران افغانستان کی صورتحال خاص طور پر 20جولائی کو منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس اور وہاں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے پر گفتگو ہوگی۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور ان کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی نے اس سال مارچ میں واشنگٹن میں ملاقات کر کے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات کی بنیاد ڈالی تھی اور مستحکم شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ایک پالیسی اسٹیئرنگ گروپ اور 13 ورکنگ گروپ اس ڈائیلاگ کا حصہ ہیں۔

امریکی سفارتخانے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گذشتہ ماہ ہوئی بات چیت کے دوران پاکستانی اور امریکی حکام نے ملک میں پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے ترجیحاتی اقدامات کی ایک فہرست مرتب کرنے پر غور کیا تھا ۔

امریکی خصوصی نمانئدے ہالبروک پاکستانی وزیر خارجہ قریشی کے ہمراہ (فائل فوٹو)

امریکی خصوصی نمانئدے ہالبروک پاکستانی وزیر خارجہ قریشی کے ہمراہ (فائل فوٹو)

امریکی حکام نے آبی وسائل کا بہتر استعمال اور ان کی تقسیم کے لیے پاکستان میں ایک الگ ادارے کے قیام میں مدد دینے کی پیشکش کی ہے اور رواں سال امریکی حکومت پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر کام کرنے والے سرکاری آبی ماہرین کو مدعوکرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کے دورے میں توانائی کے جس پروگرام کا اعلان کیا تھا اس کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے اور بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت اور بجلی کی فراہمی میں بہتری کے ساتھ ساتھ موثر ٹیوب ویلوں کی تنصیب کے منصوبوں پرکام جاری ہے۔

دونوں ملکوں کے حکام توانائی کی کمی سے نمٹنے کے لیے قلیل اور وسط مدتی حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری جیسے طویل مدتی اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صحت کے منصوبے پاکستان اور امریکہ کے درمیان شراکت داری کا ایک اہم جزو ہے اورا سٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شامل حکام نے پاکستان کے لیے صحت کی قومی پالیسی، صوبوں میں صحت کے نظام میں بہتری اور پولیو اور ہیپا ٹائٹس سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی مہم کو وسعت دینے پر غور کیا ہے۔

خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے جن امور پر تبالہ خیال کیا جا چکا ہے ان میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع، ان کے خلاف تشدد کی روک تھام، انصاف اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں میں آگاہی اور خواتین سیاسی رہنماؤں کی تربیت شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ا سٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شامل گروپوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آنے والے دنوں میں جاری رہے گا کیوں کہ امریکہ اور پاکستان طویل مدتی شراکت داری کے عزم پر قائم ہیں۔

XS
SM
MD
LG