رسائی کے لنکس

بات چیت سے مثبت نتائج متوقع

  • ن ہ

بات چیت سے مثبت نتائج متوقع

بات چیت سے مثبت نتائج متوقع

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ اور پاکستان کے اعلیٰ سول و فوجی عہدے داروں کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اور جمعرات کے روز دونوں وفود توانائی، پانی، مواصلات اور عوامی سفارت کاری کے موضوعات پر بات چیت کریں گے۔

عبدالباسط نے کہا کہ اس تما م صورت حال کے پیش نظر بات چیت کے مثبت نتائج کے بارے میں پاکستان بہت پرُامید ہے۔

تاہم ترجمان نے یاد دلایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات کا یہ چوتھا دور ہے اور یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کا اگلا راؤنڈ اسلام آباد میں ہوگا اور امید ہے کہ مثبت پیش رفت کا رحجا ن آئندہ ہونے والی بات چیت میں بھی جاری رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستانی ترجمان نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان پر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے معاہدے کے بارے میں بھارتی خدشات کور دکیا ہے۔

لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبے میں معاہدے کے کیا امکانات ہیں تو ترجمان نے کہاکہ اس تنگ نظری سے پاک امریکہ بات چیت کو دیکھنا کہ جوہری توانائی کے شعبے میں معاہدہ ہونے یا نہ ہونے سے بات چیت کامیاب ہوئی یا ناکام ہوئی ،مناسب نہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت ایک وسیع البنیاد مذاکراتی عمل ہے اور یہ ہرگز مناسب نہیں ہوگا کہ اسے جوہری شعبے میں تعاون کے معاہدے کے تناظر میں دیکھا جائے۔

ادھر ملک میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار علی خان نے پاک امریکہ مذاکرات پر پارلیمان کو اعتماد میں نہ لینے پر حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔انھوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کی شب قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا جب کہ جمعرات کو ان کی پارٹی کے سربراہ نواز شریف نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر کچھ امور پر ٹھوس پیش رفت سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG