رسائی کے لنکس

’افغانستان کی زیر قیادت مصالحتی عمل کی حمایت جاری رہے گی‘


پاکستانی سیکرٹری خارجہ اور افغان نائب وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس

پاکستانی سیکرٹری خارجہ اور افغان نائب وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس

افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے قائم پاک افغان امن کمیشن کے ورکنگ گروپ کے جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی سربراہی سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر جب کہ افغان وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ جاوید لویدن نے کی۔

مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں دونوں اعلیٰ عہدیداروں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ بات چیت میں عملی اقدامات کرنے کے بارے پر تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ امن کمیشن کا اگلا سربراہی اجلاس اکتوبر میں ہوگا جس میں افغان صدر حامد کرزئی اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

افغان نائب وزیر اور پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ افغانوں کی زیر قیادت امن و مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے مختلف پہلوؤں کا اس تناظر میں جائزہ لیا گیا کہ اس عمل کو کیسے کامیاب بنایا جا سکے۔

سلمان بشیر نے کہا کہ پاکستان افغانوں کی زیر قیادت ملک میں امن و مفاہمت کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ’’مذاکرات نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اپنے ممالک اور اپنی قیادت کی طرف سے مل کر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرسکیں۔‘‘

افغان نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کا مشترکہ دشمن ہے اور حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ افغانستان میں قیام امن اور شدت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں گے۔’’افغانوں کی زیر قیادت مصالحتی عمل کی کامیابی کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔‘‘

مذاکرات میں سرحد پار افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے حملوں کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ 30 پاکستانی نوجوانوں کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ جاوید لویدن نے کہا کہ اُن کا ملک پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

افغانستان میں قیام امن اور طالبان کے ساتھ مصالحت کے لیے پاک افغان مشترکہ کمیشن کے قیام کا فیصلہ رواں سال اپریل میں کیا گیا تھا جس کے بعد اس کا ایک سربراہی اجلاس اسلام آباد میں ہو چکا ہے۔

یہ مشترکہ کمیشن دو سطحوں پر کام کر رہا ہے جس میں اعلیٰ سطحی گروپ میں دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت اور وزرائے خارجہ کے علاوہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شامل ہوں گے جب کہ دوسری سطح پر دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ عہدیدار مل کر کام کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG