رسائی کے لنکس

افغانستان میں پاکستانی تعاون سے جاری منصوبے جلد مکمل کرنے کا عزم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن اگر یہ معاملات باہمی افہام و تفہیم سے آگے بڑھائیں جائیں تو یہ افغانستان اور خطے کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نے جنگ سے تباہ حال پڑوسی ملک افغانستان میں شعبہ صحت میں اپنے تعاون سے شروع کیے گئے مختلف منصوبوں کو رواں سال کے اواخر تک مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

کابل میں پاکستانی سفارتخانے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سفیر سید ابرار حسین نے اس عزم کا اظہار صوبہ لوگر میں پاکستان کی طرف سے تعمیر کیے جانے والے 300 بستر پر مشتمل نائب امین اللہ خان اسپتال کے دورے کے موقع پر کیا۔

پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک افغانستان میں صحت و تعلیم کے شعبوں میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور وہ پراُمید ہیں کہ یہ منصوبے افغانستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

امریکہ سمیت مغربی دنیا اور پاکستان کے علاوہ اس کا روایتی حریف پڑوسی ملک بھارت بھی افغانستان میں تعمیر نو کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے لے کر مختلف شعبوں میں لوگوں کو تربیت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

پاکستانی سفیر کی طرف سے منصوبوں کی تکمیل کے بارے میں یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں بھارت کے تعاون سے افغانستان میں چند بڑے منصوبوں کی تکمیل کے بعد ان کا افتتاح کیا گیا۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وڈیو لنک کے ذریعے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ہمراہ کابل میں تباہ شدہ دارالامان محل کی بحالی کا عمل مکمل ہونے پر اس کا افتتاح کیا تھا جب کہ رواں سال ہی سلمیٰ ڈیم اور گزشتہ برس افغان پارلیمان کی نئی عمارت کا افتتاح بھی کیا تھا۔ یہ منصوبے بھارت کے مالی تعاون سے مکمل کیے گئے تھے۔

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن اگر یہ معاملات باہمی افہام و تفہیم سے آگے بڑھائیں جائیں تو یہ افغانستان اور خطے کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

افغانستان میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ اور پھر 2014ء میں بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد طالبان شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافے سے یہ ملک بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہوا ہے۔

یہاں قیام امن کی کوششوں کے لیے بھی پاکستان، امریکہ، چین اور افغانستان کے ساتھ مل کر کوششوں میں مصروف ہے لیکن اس چار فریقی گروپ کی کوششیں تاحال بارآور ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG