رسائی کے لنکس

صوابی: انسداد پولیو مہم سے وابستہ ڈاکٹر حملے میں ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ڈاکٹر یعقوب ڈوڈھر گاوں سے اپنے دفتر باچا خان میڈیکل کمپلیکس صوابی جا رہے تھے کہ ان پر زائدہ ٹاون کے علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔

پاکستان کے شمال مغرب میں پیر کی صبح نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم سے وابستہ ایک عہدیدار کو ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع صوابی میں پیش آیا جہاں مقامی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے انسداد پولیو مہم کے انچارج ڈاکٹر محمد یعقوب کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

ڈاکٹر یعقوب ڈوڈھر گاؤں سے اپنے دفتر باچا خان میڈیکل کمپلیکس صوابی جا رہے تھے کہ ان پر زائدہ ٹاون کے علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔

فائرنگ سے ڈاکٹر یعقوب ہلاک ہو گئے جب کہ ان کی گاڑی کا ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے لیکن صوابی کے ہی علاقے میں اس سے قبل بھی متعدد بار انسداد پولیو سے وابستہ رضاکاروں کو شدت پسند ہلاکت خیز حملوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

صوابی کے علاوہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دسمبر 2012ء سے شدت پسند رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہے ہیں جن میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان حملوں سے ملک میں پولیو کے موذی وائرس پر قابو پانے کی مہم بری طرح متاثر ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال ملک بھر سے تین سو سے زائد پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جو ملکی تاریخ میں کسی ایک ہی سال میں سامنے آنے والے پولیو کیسز کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔

لیکن شدت پسندوں کے خلاف جاری سکیورٹی آپریشنز اور انسداد پولیو مہم کے دائرے کو قبائلی علاقوں تک بڑھانے سے رواں سال حکام کے مطابق پولیو وائرس پر 80 فیصد قابو پانے میں مدد ملی ہے اور اب تک صرف 40 کے لگ بھگ کیسز ہی سامنے آئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ملک ہیں جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ لیکن افغانستان میں پولیو کیسز کی طرح پاکستان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

XS
SM
MD
LG