رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی: بم دھماکے میں کم ازکم آٹھ ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والا واقعہ بھی فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ گاڑی پر سوار افراد کا تعلق سنی مسلک سے تھا اور یہ واقعہ شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے میں پیش آیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم ازکم آٹھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

منگل کی صبح ایک مسافر گاڑی پارا چمکنی سے سدا جا رہی تھی کہ خومتہ نامی علاقے میں سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی۔

دھماکے سے گاڑی بری طرح تباہ ہوگئی اور اس میں سوار افراد میں سے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

فوری طور پر کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی حکام نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتائی ہیں۔

افغان سرحد سے ملحقہ کرم ایجنسی گزشتہ کئی سالوں سے فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں رہی ہے جہاں شیعہ اور سنی فرقے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے پر ہلاکت خیز حملے کرتے رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والا واقعہ بھی فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ گاڑی پر سوار افراد کا تعلق سنی مسلک سے تھا اور یہ واقعہ شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے میں پیش آیا۔

تاہم کرم ایجنسی کی انتظامیہ نے اس میں فرقہ وارانہ تشدد کے عنصر کو رد کیا ہے۔

دہشت گردی و انتہا پسندی کے شکار ملک پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں خصوصاً قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف فوج نے گزشہ ماہ کے اواخر میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ٹارگٹڈ کارروائیاں کر کے 80 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں متعدد غیر ملکی جنگجو اور اہم طالبان کمانڈر بھی شامل تھے۔

حکومت کی طرف سے ملک میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے شروع کیا جانے والا مذاکراتی عمل بھی دو ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔

دریں اثناء صوبہ خیبرپختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں کوہاٹ روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال کے باہر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور اسپتال کا ایک محافظ زخمی ہو گیا۔
XS
SM
MD
LG