رسائی کے لنکس

پاک چین جوہری معاہدہ اور امریکی تحفظات


ایٹمی ری ایکٹر

ایٹمی ری ایکٹر

چین نے پاکستان کو، جسے توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے، دونوں ملکوں کےد رمیان موجود جوہری معاہدے کے تحت دو نیوکلیئر پاور پلانٹس فراہم کرنے کاحال ہی میں اعلان کیا جس پربین الاقوامی میڈیا میں بعض حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اور امریکہ نے چین سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرے۔ اس سے قبل چشمہ کے مقام پر چین ایک جوہری گھر نصب کرچکاہے۔

NSG یعنی نیوکلیئر سپلائیز گروپ ممالک کے اجلاس میں اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیاگیا۔ چین اور پاکستان کے درمیان ایٹمی ری ایکٹرز کی اس فروخت کو NSG کے قوانین کی خلاف ورزی کہا جا رہا ہے۔ جبکہ چین کا کہنا ہے کہ اسے یہ ری ایکٹر بیچنے کا پورا حق حاصل ہے۔

تاہم اس مرتبہ ناقدین چین اور پاکستان سمیت امریکہ اور بھارت پر بھی اتنی ہی تنقید کر رہے ہیں۔ جارج پرکووچ کا تعلق کارنیگی انڈاومنٹ سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔ ایسا ہر گز نہ ہوتا اگر امریکہ اور انڈیا معاہدہ نہ ہوتا۔ اور جب وہ معاہدہ ہورہاتھا تو بہت سے ماہرین نے واشنگٹن اور بھارت میں حکومتی عہدے داروں سے کہاتھا کہ آپ جانتے ہیں کہ چین بھی ایسا کرے گا۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ ہم اسے روکنے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں گے۔

واشنگٹن میں موجود بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کئی وجوہات کی بنا پر پاک چین جوہری توانائی کے معاہدے پر زیادہ تنقید نہیں کرے گا۔ مگر مارک ہبز کا کہنا ہےکہ یہ ڈیل ہونے کی صورت میں NSG میں شامل ممالک گروپ کی شرائط ماننے سے انکار کر سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ چین پاکستان کو یہ ری ایکٹرز صرف اور صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔

جارج پرکووج کا کہنا ہے کہ بھارت کے معاہدے میں شامل نکات زیادہ برے ہیں۔ انڈیا ایٹمی فیول خرید رہا ہے۔ جس سے وہ بعد میں مزید ایٹمی ہتھیار بنا سکے گا۔جبکہ پاکستان میں لگائے جانے والے ری ایکٹرز میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ وہ کسی بھی طرح پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں میں کوئی اضافہ کریں گے۔

پاکستان کی جوہری تنصیبات کی حفاظت اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے حوالے سے اس کے ایٹمی پروگرام پر عالمی سطح پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ مگر خود امریکی صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں۔

NSG سے اس معاہدے کی منظوری لینا ایک مشکل مرحلہ ہو سکتا ہے مگر بعض ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ چین ان بجلی گھروں کی فروخت کو 2004 ءمیں NSG میں شامل ہونے سے پہلے کے پاک چین معاہدے کے تحت قانونی ظاہر کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG