رسائی کے لنکس

اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر امین شہیدی نے بتایا کہ کونسل کی رائے میں خواتین کے خلاف ایسے واقعات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بھی بنیادی شواہد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے مرکزی دفتر میں ایک اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ حقوق نسواں کے ترمیمی قانون میں عورتوں سے جنسی زیادتی کو ثابت کرنے کے لیے چارعادل گواہوں کی شرط کو ختم کرنا غیر شرعی ہے جس بنیاد پر انہوں نے اس قانون کو اسلام سے متصادم قرار دیا۔

کونسل کے ممبر امین شہیدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ کونسل کی رائے میں خواتین کے خلاف ایسے واقعات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بھی بنیادی شواہد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

’’تعلیم کے میدان میں ان کے حقوق پامال ہوتے ہیں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ معاشرے میں خواتین کو کام کاج سے متعلق مشکلات کا کوئی ذکر نہیں۔ وراثت سے محروم رکھا جاتا ہےکوئی بات نہیں۔ اگر کوئی بات آئی ہے تو حقوق تحفظ خواتین کے نام پر ان کی جنس کے بارے میں آئی ہے اور وہ یہ کہ وہ زنا میں آزاد ہوں۔‘‘

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ صرف چار عینی شاہدین کی گواہی کی بنیاد پر ہی خواتین سے جنسی تشدد ثابت ہو سکتا ہے۔

’’اگر چار گواہ نہیں تو ایسے قرائین و شواہد لائے جا سکتے ہیں جن سے جج کو قائل کیا جائے کہ زیادتی ہوئی ہے۔‘‘

اجلاس میں توہین رسالت کے قانون سے متعلق بھی بحث کی گئی اور کہا گیا کہ اس میں کسی ترمیم کی گنجائش نہیں۔ کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کہتے ہیں۔

’’آپ بتائے پاکستان میں کون سے قانون کا غلط استعمال نہیں ہوتا۔ پھر غلط استعمال کے خلاف آئین میں دفعات موجود ہیں۔ تو یہ عدلیہ کا کام ہوتا ہے اس کونسل کا نہیں۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ توہین رسالت اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق حدود کے قوانین کو پاکستان میں زیادہ تر ذاتی یا خاندانی دشمنی اور مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ ان میں ترامیم یا خاتمے کا مطالبہ کرتی ہیں۔
فرزانہ باری

فرزانہ باری


قائداعظم یورنیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف جنڈر اسٹڈیز کی چیئرپرسن فرزانہ باری کہتی ہیں کہ ’’پہلے سے لوگوں کے پاس لائسنس ہے کہ وہ ریپ کرتے ہیں اور بچ نکلتے ہیں۔ تو اب تو کھلی چھٹی ہے۔ کون چار گواہ لائے گی۔ اگر کوئی جھوٹ بول رہا تھا اور ثابت بھی ہوا تو آج تک کوئی ایسی سزاء ہوئی ہے۔ تو جو قوانین کے غلط استعمال ہونے کے امکان زیادہ ہوں تو ان پر نظر ثانی ہونی چاہیے اور کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے۔‘‘

بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے قانونی نظام میں کمزوریوں کی وجہ سے توہین رسالت اور خواتین سے جنسی تشدد جیسے کئی سنگین جرائم میں ملوث افراد یا ان سے متعلق قوانین کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔
XS
SM
MD
LG