رسائی کے لنکس

اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں پھنسے کھلاڑیوں کا فیصلہ جلد متوقع


اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں پھنسے کھلاڑیوں کا فیصلہ جلد متوقع

اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں پھنسے کھلاڑیوں کا فیصلہ جلد متوقع

ایسا لگتا ہے کہ سال دو ہزار گیارہ کا سورج پاکستان کرکٹ کیلئے نئی امیدیں اور کامیابیاں اپنے ساتھ لے کر طلوع ہوا ہے ، اس کے اوائل میں قومی ٹیم تقریباً چار سال ایک ماہ اور ایک ہفتے کے طویل انتظار کے بعد کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں فتح کیلئے فیورٹ قرار دی جارہی ہے وہیں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات میں پھنسے کھلاڑیوں کی قسمت کا فیصلہ سنائے جانے کا بھی آج قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔

پاکستانی ٹیم نے آخری مرتبہ یکم دسمبر دو ہزار چھ میں ویسٹ انڈیز کو اپنی سر زمین پر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریزمیں دو صفر سے مات دی تھی تاہم اس کے بعد سے اب تک پاکستان مختلف ممالک سے دس ٹیسٹ سیریز کھیل چکا ہے جس میں اسے چھ مرتبہ شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور چار مرتبہ سیریزبغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوئی تاہم ہمیلٹن ٹیسٹ میں کیویز کے خلاف شاندار فتح نے شائقین میں ایک مرتبہ پھر کسی بھی سیریز میں فتح کی نئی امنگیں پیدا کر دی ہیں ۔

گزشتہ سال اگست کا آخری عشرہ پاکستانی کرکٹ کیلئے انتہائی بھیانک ثابت ہوا اور لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں محمد آصف ، محمد عامر اور سلمان بٹ پر اسپاٹ فکسنگ جیسے داغ ثبت کر گیا جو گزشتہ چار ماہ سے زائد عرصے سے شائقین کیلئے ذہنی کرب کا باعث ہیں ۔اگر چہ سلمان بٹ کی قیادت میں پاکستان نے پندرہ سال بعد آسٹریلیا اور پانچ سال بعد انگلینڈ کو مات دی تاہم ان پر لارڈز کی سر زمین پر لگائے گئے الزامات نے ان کی ساری شہرت مٹی میں ملا دی اور اس کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی قیادت مصباح الحق کو سونپی گئی ۔

یہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد مصباح پر مختلف حلقوں سے کھل کر تنقید کی گئی لیکن انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف اپنی کارکردگی سے ناقدین کے منہ پر تالے لگا دیئے۔ الزامات کے انبار تلے دبی ٹیم نے شاندار طریقے سے دونوں مقابلے بغیر ہار جیت کے ختم کر دیئے ۔ اس کے بعد اب نیوزی لینڈ سے سیریز کا پہلا ٹیسٹ جیت کر سیریز اپنے نام کرنے کیلئے پرعزم ہیں اور ثابت کر دیا کہ وہ سلمان بٹ سے کسی طرح بھی کم نہیں ۔ تنویر احمد اور رہاب ریاض کی کارکردگی نے بھی بہت حد تک محمد عامر اور محمد آصف کی ٹیم میں کمی کو پورا کر دکھایا ہے ۔ اس کے علاوہ اسدشفیق ،توفیق عمر اور اظہر علی جیسے کئی ستارے بھی ملک کا نام روشن کرنے کیلئے بے تاب ہیں ۔

دوسر ی جانب تقریبا پانچ ہفتوں کے کٹھن اور صبر آزما انتظار کے بعد اسپاٹ فکسنگ کی فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کل یعنی منگل کو محمد عامر ، محمد آصف اور سلمان بٹ کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ چھ جنوری سے قطر (دوحہ ) میں شروع ہونے والے اس کیس کی سماعت مائیکل بیلوف کی سربراہی میں البائی ساچز اور شردراؤ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی کر رہی ہے اور اتوارکو پانچ روز مکمل ہونے پر تینوں کھلاڑیوں ،ان کے وکلاء اور آئی سی سی کے وکلاء نے اپنے دلائل پیش کر دیئے ہیں ۔ اس کے علاوہ دورہ انگلینڈ کے دوران تینوں کھلاڑیوں کے ٹیلی فونک ریکارڈ اور اس راز کو افشاں کرنے والے انگلش جریدے کے رپورٹر مظہر محمود سے ہونے والی کھلاڑیوں کی گفتگو کا ریکارڈ بھی پیش کر دیا گیا ہے جو اس کیس میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ۔

رپورٹس کے مطابق کل(منگل ) کو دوحہ میں مقامی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے میڈیا کے نمائندوں کو آئی سی سی کی جانب سے مدعو کر لیا گیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میڈیا کو اسپاٹ فکسنگ کیس کے حوالے سے بریف کیا جائے گا ۔ بعض میڈیا ذرائع اس بات کا امکان ظاہر کررہے ہیں کہ اس کیس میں سابق کپتان سلمان بٹ کو تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جبکہ محمد آصف پر پانچ سال اور محمد عامر پر دو سال تک کی پابندی لگائی جا سکتی ہے لیکن اصل صورتحال تو فیصلہ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی ۔

ماہرین اس فیصلے کو پاکستانی کرکٹ کیلئے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ فیصلے کے بعد پاکستانی کھلاڑی نفسیاتی طور پر دباؤ سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے اور فتوحات کا سلسلہ نہ صرف دو ہزار گیارہ بلکہ آنے والے دور میں بھی مایوسیوں کے بادل چھٹ جائیں گے اور شائقین ایک مرتبہ پھر کرکٹ پر جان نچھاور کریں گے ۔

XS
SM
MD
LG